معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان میڈیا کو اپنا پارٹنر سمجھتے ہیں، جلد میڈیا ہاؤسز اور میڈیا ورکرز کے مسائل حل کیئے جائیں گے اس ضمن میں ڈیجیٹلائزیشن پالیسی اور میڈیا کورٹس متعارف کروانے جا رہے ہیں۔
پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم امریکہ کے دورے پر گئے ایسے وقت میں سوشل میڈیا، اورپرنٹ و الیکٹرانک میڈی نے ایک آواز ہوکر پاکستانی تشخص کو سپورٹ کیا اور بھارتی پروپیگنڈے کا بھرپور انداز میں جواب دیا گیا جس سے بین الاقوامی طور پر پاکستانی قیادت اور پاکستانی مؤقف کا مثبت اثر گیا ہےاگر اسی طرح قوم اکٹھی ہوجائے توہم ہرمحاذ پر دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بحیثیت میڈیا اونان میں حب الوطنی کا جذبہ موجود ہے، پاکستان فرسٹ کاسلوگن میڈیا ہاؤسزکےمالکان میں موجود ہے۔میڈیا میں بیٹھےسپاہی پاکستان کی یکجہتی کے لیےریاست کےساتھ کھڑے ہیں۔ ریاست کا بیانیہ عوام تک پہنچانےمیں شراکت دارکا کردا ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورکرز کا وجود میڈیا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پی بی اے کے پاس میڈیا پالیسی کی تجاویز آگئی ہیں، امید ہے مشاورت کے بعد میڈیا ورکرز کے لیے سہولت نکالنے میں کامیاب ہوں گے، پی بی اے نے پیمرا کے حوالے سے شکایات اور گلے شکوے مجھ سے کیے۔ ہم سمجھتے ہیں کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیئے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قانون کا یکساں اطلاق ہوتا نظر آنا چاہیئے، سوشل میڈیا پیمرا کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ سماجی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے اداروں سے رائے لے رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن چینلز کی گنجائش کے مسئلے کا حل ہے، جلد ایک ڈیجیٹلائزیشن پالیسی متعارف کروانے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت یا ادارے کے اقدام پر میڈیا عدالت میں چلا جاتا ہے، مقدمات میں وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔ میڈیا کورٹس کے قیام کی تجویز ہے جو صرف میڈیا کے معاملات دیکھیں گی، میڈیا کورٹس سے شکایات کا فوری ازالہ ہوسکے گا۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں جائز ضروریات پر پی بی اے کے تحت میڈیا ورکرز سے رائے لیں، میڈیا ورکرز کو نکالنے کے مسئلے کے حل کے لیے طریقہ کار چاہتے ہیں۔ نیوز سمیت 58 نئے چینلز کو لائسنس دیے گئے، نئے لائسنس چینلز کی بڈنگ پر حکومت کو 5 ارب حاصل ہوئے۔ پی بی اے نے اقدام پر اعتراض کیا کہ کیبل کی اتنے چینل دکھانے کی گنجائش نہیں، اس مسئلے کا واحد حل ڈیجیٹلائزیشن پالیسی ہے۔