امریکی ایوان نمائندگان کی متفقہ قرارداد، عمران خان ایماندار اور بہادر لیڈرقرار  

 

وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ امریکا پر امریکی ایوان نمائندگان  کے رکن جیکسن لی نے ایوان میں قرارداد پیش کی جس میں وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ امریکا کا خیر مقدم کیا گیا، قرارداد میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں کرپشن اور غربت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔

 "وہ ایک ایماندار اور بہادر لیڈر ہیں”۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں خارجہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، قرارداد میں افغان امن عمل میں وزیر اعظم عمران خان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانی و مالی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔ متن میں کہا گیا کہ عمران خان نے قبائلی علاقوں میں پہلی بار حکومتی عمل داری قایم کی، پاکستان میں صورت حال میں بہتری سے بیرونی سرمایہ کاری واپس آ رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کی شکل میں پاکستان کو بہادر اور ایمان دار قیادت میسر آئی ہے۔

 

دریں اثناء وزیراعظم عمران خان امریکا کے تین روزہ کامیاب دورے کے بعد رات گئے دوحہ سے اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچے جہاں وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور سینیٹر اعظم سواتی سمیت کئی وزرا، مشیر، پارٹی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کارکنن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "آپ کی محبتوں کو دیکھ کر لگ رہا کہ میں امریکہ کے دورے سے نہیں بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں”۔

عمران خان کی آمد پر اسلام آباد ائیرپورٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو اپنے قائد کا استقبال کرنے کے لیے کئی شہروں سے ریلیوں کی صورت میں آئے تھے۔اسلام آباد ائیرپورٹ کے احاطے میں موجود کارکنوں نے وزیر اعظم کی آمد پر نعرے بازی کی، بھنگڑے ڈالے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرکے خوب جشن منایا۔

پی ٹی آئی حکومت سے پہلے پاکستان کہاں تھا۔۔۔!!

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے یہ جاننا ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے پاکستان کہاں تھا ، 5 سال سے پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا، 6 سال سے امریکا میں لابنگ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اپنے بیان میں انھوں نےکہا کہ پی ٹی آئی حکومت سےقبل کا پاکستان تنہائی کا شکار ملک تھا۔ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات پروان چڑھ رہےتھے، پاکستان کی آئسولیشن کوہم نےوائٹ ہاؤس کے دعوت نامےمیں تبدیل کردیا، پاکستان دنیا میں تنہا ہو رہا تھا ہم نے اسے تعاون میں بدل دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملکوں کی ضرورتیں ہی تعلقات کی بنیاد بنتی ہیں، امریکا افغانستان میں فوجی جارحیت کی بہ جائے سیاسی سمجھوتے کی راہ پر آ گیا، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کا امریکا نے اعتراف کیا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر سے متعلق کہا کہ نینسی پلوسی سے وزیر اعظم اور میری ملاقات کو سمجھنا چاہیے، 41 سے زائد کانگریس ارکان ہمارے مؤقف کا حصہ بن گئے ہیں۔ خیال رہے کہ نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف امریکا کو پاکستان کا تعاون حاصل ہے۔

دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات ازسرنو استوار ہوچکے ہیں، امریکاکی جانب سے ڈومور کا کہیں ذکر نہیں ہوا، اسامہ سےمتعلق ابتدائی معلومات پاکستان نےامریکاکودی تھیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بھارت مذاکرات کی طرف آنے کو تیار ہی نہیں ہے۔

Share This Article

تازه ترین