عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پراپوزیشن جماعتوں کی کال پر جمعہ کو یوم سیاہ منایا گیا اس سلسلے میں کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے منعقد کیا گئے جن سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جمہوریت خطرے میں ہے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہوکر اس خطرے سے نجات کا راستہ نکالنا ہوگا، رہنماؤں نے کہا کہ گذشتہ سال 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات جعلی تھے حکومت جتنی جیلیں بھر لے ہم اس کو نہیں مانیں گے۔
پشاور
پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان ، احسن اقبال، اسفند یار ولی، آفتاب شیرپاؤ، نیربخاری نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن نے اسلام آباد کی کال دی تو حکومت کو گھرجانے سے کوئی نہیں بچا سکے گا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم جیلیں بھر دیں گے لیکن حکومت کو نہیں مانیں گے، 25 جولائی کے انتخابات جعلی تھے، اب پورے ملک میں عمران خان سلیکٹیڈ نہیں ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے نوازشریف کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ قیام امن اور فاٹا انضمام مسلم لیگ نے کر دکھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے اپوزیشن کے جلسے کو بارش کا پہلا قطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے، مہنگائی کا طوفان لاکر تبدیلی لائی گئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوری انتخابات کرائے جائیں۔
پیپلزپارٹی کے رہنما نیر بخاری نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی کو ایک اور شوکت عزیز ملک پر مسلط کیا گیا ہے، عمران خان بچے گا نہ ہی سینیٹ کے چیئرمین، ہم دونوں کو ڈوبو دیں گے۔
لاہور میں احتجاجی جلسے کی قیادت صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کی تاہم لاہور میں اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ چیئرنگ کراس پر اسٹیج تیار نہیں کرنے دیا گیا اور انتظامیہ مقامی قیادت اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کیلئے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔
کراچی
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں مزار قائد سے متصل باغ جناح کراچی میں یوم سیاہ کے موقع پر منعقد کیے گئے اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کیا،پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ پوری سیاست نشانے پر ہے، غربت نہیں غریب نشانے پر ہے، آج پارلیمان اور جمہوریت نشانے پر ہے، چند قوانین نہیں پورا آئین نشانے پر ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ سال 28 جولائی کوکراچی میں پارٹی میٹنگ بلائی تھی، اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے باوجود جمہوریت بچائی، ہم نے اپوزیشن کو کہا پارلیمنٹ میں آئیں، جمہوریت بچائیں۔ عمران خان نے کہا تھا صرف 6 ماہ دیں، پھرمیں ہرچیزکا ذمہ دار ہوں گا، ہم نے ایک سال دیا ہے، ہر پاکستانی پریشان ہے، ملک تاریخی معاشی بحران سے گزررہا ہے، سبسڈی چھین کر کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے 25 جولائی کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ن لیگ کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، پاکستان کا متفقہ آئین بھٹو شہید نے مفتی محمود دیگر کے ساتھ مل کر بنایا، لیکن آج جمہوریت خطرے میں ہے۔
کوئٹہ
مسلم لیگ نواز کی نائب صدرمریم نواز نے کوئٹہ میں اپوزیشن کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اپوزیشن یوم سیاہ اس لیے منا رہی ہے کیونکہ آج سے ایک سال قبل عوام کے ووٹ کو پاؤں تلےروندا گیا اورراتوں رات مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
مریم نوازکا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں جب نوازشریف عبد الصمد خان اچکزئی کی برسی پر بلوچستان آئےتو انھوں نےبلوچستان کی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور آج اس وعدے کی پاداش میں وہ جیل میں بیٹھے ہیں۔حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیا ہے اور گذشتہ ایک برس کے دوران ریکارڈ 16 ارب ڈالر کے قرضے لیے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ نے عمران خان کوسامنے بیٹھا کر کہا کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتیں اچھی نہیں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اچھا نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ گذشتہ حکومتوں نے ملکی مفادات کا سودا نہیں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان اداروں کے لوگوں کو اس لیے امریکہ ساتھ لے کر گئے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ کوئی ان کی بات نہیں سنے گا۔