نیوٹن کا ایک قانون سادہ الفاظ میں کچھ اس طرح ہے کہ "کسی مادے پر جتنی قوت لگا کر اسے دبایا جائے گا وہ اتنی ہی قوت سے باہر آئے گا” یہ قانون واقعی عملی زندگی میں آپ دیکھیں ہر جگہ لاگو نظر آئے گا لیکن موجودہ حکومت میں اس قانون کو نہ کوئی پہچان رہا ہے نہ سمجھ رہا ہے نتیجے میں اس ریٹرن فورس کا سامنا حکومت کو کرنا پڑرہا ہے اور یہ صورتحال حکومت کیلئے پریشان کن ثابت ہونے کے ساتھ ان کی سیاست کیلئے انتہائی تباہ کن ہوسکتی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے خلاف سخت لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام ترجمان حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لائیں۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیراعظم نے دورہ امریکہ پر حکومتی ترجمانوں کو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں کہ ترجمان حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لائیں۔
اگر وزیر اعظم کی ہدایت ایسی ہے تو اس میں کچھ ترمیم کی شدید ضرورت ہے مثال کے طور پر یہ ہدایت تو صحیح ہے کہ حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے لیکن یہ حکم کہ اپوزیشن کے خلاف سخت ردعمل اپنایا جائےاسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا اس کے مقابلے میں وزیراعطم کی اس سے قبل کی ہدایت موزوں تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن کے جلسوں پرسڑکیں بند کرنے کے بجائے ان کی پُرامن ریلیوں اوراحتجاج کی اجازت ہونی چاہیے۔اس سلسلے میں وفاقی وزیرسائنس فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کو پر امن ریلیوں اوراحتجاج کی اجازت ہونی چاہیے، وزیراعظم چاہتے ہیں اپوزیشن کی حقیقت عوام کے سامنے آئے، اس سے اپوزیشن بے نقاب ہوجائےگی کیوں کہ اس کے پاس اسٹریٹ پاور نہیں، پاکستانی عوام اس سے تنگ آچکی ہے۔لیکن ہوا یہ کہ ان ہدایات کو سنجدیگی سے نہیں لیا جارہا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنی من مانی کرنے میں مصروف ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ اگر کوئی اصولی ی سچ بات کررہا ہے تو نہ صرف اس کی آواز دبائی جارہی ہے بلکہ اس کا مذاق بھی بنایا جارہا ہے مثلا وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کیپٹل ارینا ون میں وزیراعظم کے خطب کے حوالے سے بیان سمیت کئی باتیں ایسی ہیں جنھیں سمجھنے کی ضرورت تھی لیکن شاید ان کی بات کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں یہ امر اس لیئے خوش آئند نہیں قرار دیا جاسکتا کہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ” یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے” کے قول پر عمل کیا جائے تو حکومت بہت سی بے جا پریشانیوں سے بچ سکتی ہے۔
اپوزیشن کو ان کے اعمال کی اجازت دینے کی یہ بات اور لائحہ عمل درست تھا کیونکہ جب اپوزیشن احتجاج اور ریلیاں کرے گی اور حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں میں مصروف ہو گی تو بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ عوام اپوزیشن کے طرز عمل سے بیزار ہوجائے گی، لیکن اس کے برعکس ہورہا ہے، 25 جولائی کو اپوزیشن کے یوم سیاہ پر لاہور میں شہباز شریف کی ریلی اور جلسے کو روکنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، روکا گیا تو عوام نے ردعمل کے طور پر اس میں بڑی تعداد میں شرکت کی، یعنی حکومت خود ہی اپوزیشن کے احتجاج کو مؤثر بنانے کا سامان فراہم کررہی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جس اپوزیشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس اور رہبر کمیٹی کے فیصلے ناکام ہوتے نظر آرہے تھے اسی اپوزیشن کے اعلان کردہ یوم سیاہ کو حکومتی عمل نے کامیاب بنانے میں اپنا کردارادا کردیا ہے، اصولی طور پرآزادی اظہار رائے کا حق دیتے ہوئے اپوزیشن کی کوریج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہونی چاہیئے یہ الگ بات ہے کہ کوریج کیلئے کچھ حدود مقرر کی جاسکتی ہیں جو حکومت کا حق ہے اور متعدد خلیجی ممالک اور امریکہ یورپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس کی نگرانی بھی خود کرنی چاہیئے یا کم ز کم ایسی کوئی ٹیم مقرر کریں جو خان صاحب کی حکومت کو اپنے بے سروپا فیصلوں کی بنا پر بند گلی میں نہ لے جائیں اگر ایسا ہوا تو یہ حکومت کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا اور کلہاڑی چلانے والے بھی حکومتی وزراء اور ترجمان ہی ہوں گے جنھیں ابھی سے لگام دینے کی ضرورت ہے۔
اسی کے ساتھ وزیراعظم کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایف بی آر کے کچھ فیصلوں پر بھی نظر رکھیں ہویہ رہا ہے کہ کبھی ، قربانی کے جانوروں پر ٹیکس تو کبھی موٹرسائیکل رجسٹریشن پر بھاری ٹیکس کی خبریں گردش کرتی ہیں اور جب یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے تو ایف بی آر کو ہوش آتا ہے اور وہ اس کی تردید جاری کرتی ہے، جبکہ ملک میں ٹیکس اصلاحات کی حکومتی پلیسی اس بات کی متقاضی ہے کہ ایک نگراں ٹیم اس کیلئے بھی مقرر ہو جو منفی پروپیگنڈے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس پر ردعمل جاری کرے ساتھ ہی ٹیکس چوری اورجنرل سیلز ٹیکس پر عوامی شکایات پر بھی فوری کارروائی کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔