قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی ٹیسٹ کپتانی خطرے میں پڑ گئی ، پی سی بی تھنک ٹینک نے وکٹ کیپر کے متبادل کے طور پر نئے کپتان کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

قومی ٹیم کے وکٹ کیپر کپتان سرفراز احمد نے 7جولائی کو پریس کانفرنس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ کپتانی سے کسی طور بھی علیحدہ نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہی انکے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرےگا۔
32 سال کے سرفراز احمد نے 13 ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دئیے ہیں جہاں ٹیم پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں 4 ٹیسٹ جیتے اور 8 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ سے قبل بورڈ نے وکٹ کیپر کو جو اس وقت قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹ میں کپتان ہیں، ان سے طویل دورانیے کی ٹیسٹ قیادت سے علیحدہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ سے قبل بورڈ نے وکٹ کیپر کو جو اس وقت قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹ میں کپتان ہیں، ان سے طویل دورانیے کی ٹیسٹ قیادت سے علیحدہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں سرفراز احمد کے متبادل کے طور پر نائب کپتان اسد شفیق کو کپتان بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں نیشنل بینک کی کپتانی کرنے والے بائیں ہاتھ کے اوپنر شان مسعود کے نام ٹیسٹ کپتانی کا قرعہ فعال نکلنے کا قوی امکان ہے

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے شان مسعود نے آخری ٹیسٹ سیریز اس سال جنوبی افریقا میں کھیلی تھی، جہاں تین ٹیسٹ میں شان مسعود نے 2 نصف سنچریوں کی مدد 228 رنز بنائے تھے۔
ذرائع کے مطابق شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت دینے پر بورڈ میں چند افراد تحفظات کا شکار ہیں البتہ پی سی بی تھنک ٹینک نے اوپنر کو ٹیسٹ کپتانی دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔