یو ٹیوب سے پیسے،  کماتے ہیں ایسے

 

پاکستان میں جسے دیکھو اپنا یوٹیوب چینل بنا کر اس پر دھڑا دھڑ وڈیوز اپلوڈ کرتا نظر آتا ہے ہر ایک کی ایک ہی دُھن ہے کہ اس کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں اور دیکھنے والوں کی تعداد ملین میں ہوجائے تو دونوں ہاتھوں سے دولت لوٹی جائے جو یوٹیوب والے ادا کرتے ہیں لیکن ان ہزاروں یوٹیوبرز میں سے شاید ایک یا دو ہی ہوں جو قابل ذکر پیسہ کمارہے ہیں ورنہ تو سب اپنی کوششوں میں اب تک ناکام ہی ہیں۔

لیکن جنوبی کوری کی ایک 6 سالہ بچی تمام یوٹیوبرز کیلئے یقینا قابل تقلید ہے جس نے اپنی معصوم اداؤں سے یوٹیوب کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کررکھا ہے اور وہ یو ٹیوب سے سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتی ہے حال ہی میں اس چھوٹی سے یوٹیوبر بچی نے اپنی آمدنی سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں 80 لاکھ ڈالرز کا گھر خرید لیا ہے۔

اس بچی کے یو ٹیوبچینل پر سبسکرائبرز کی تعداد تین کروڑ کے قریب ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بورام نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پانچ منزلہ گھر خریدا جس کی مالیت 80 لاکھ ڈالرز کے قریب ہے۔

بورامز اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بچوں کے کھلونوں کے بارے میں بتاتی ہیں اور مختلف مزاحیہ کارٹونز بھی بناتی ہیں جسے صارفین شوق سے دیکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بورامز نے اب اپنے نام کی کمپنی بھی کھول لی جہاں ملازمین کام کررہے ہیں، سیؤل کا پانچ منزلہ مکان اپنی کمپنی کے نام پر خریدا جس میں انہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز (والدین) کو بھی مالک قرار دیا۔بورامز کی یوٹیوب پر قابل ذکر ویڈیو وہ ہے جس میں وہ پلاسٹک کے نوڈلز باورچی خانے میں بنانے کا طریقہ بتارہی تھیں۔

جنوبی کوریا کی اس بچی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی یوٹیوبرز کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے چینل پر ایسی ویسی وڈیو ڈالنے کے بجائے معلومات پر مبنی اور اچھے معیار کی وڈیوز بنا کر ڈالیں اور کوشش کریں کہ ان کے نزدیک فقط پیسے کا حصول مقصد نہ ہو بلکہ اصل مقصد لوگوں کو معلومات کی فراہمی اور دلچسپ وڈیوز دکھانا ہو اگر مقصد اچھا ہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کامیابی آپ کے بھی قدم چومنے لگے۔

 

Share This Article

تازه ترین

’اکتوبر‘ اچھی خبر نہیں لاتا
جمہوریت کا جنازہ