قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی ارکان کے درمیان جھگڑا، اجلاس بنا کسی کارروائی کے ملتوی  

 

قومی اسمبلی اجلاس میں بدنظمی اورہنگامہ آرائی کے دوران پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کے ارکان کا آپس میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس یکم اگست تک ملتوی کردیا۔اجلاس میں دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی ایک دوسرے کو مارنے کے لیے لپکتے رہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پارلیمنٹ میں بڑا وقت گزارا ہے، بات کرنے کے بعد بات سننی بھی چاہئے، امریکا گئے فوٹو سیشن ہوا، ملک کے لیے کوئی بڑی سپورٹ آئی؟ ہم بھی پاکستانی ہیں اور ہم سب پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ ملک میں انصاف ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا، تکلیف اس وقت ہوتی ہے کہ کچھ علاقے اپنی مرضی چلاتے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی بھی اپنا کردار ادا نہیں کرتے، ہم نے کبھی اسپیکر کو اتنا بے بس نہیں دیکھا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرمراد سعید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم سے جووعدے کیے تھے وہ پورے کیے ہیں، دوستی اورغلامی میں فرق ہوتا ہے انھوں نے کہا کہ کسی نے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو فوج نے سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کیا ہے، کیا کبھی ماضی کے حکمرانوں نےبیرون ملک کے دورے نہیں کیے۔۔؟؟  سابق نااہل وزیراعظم نے اہلخانہ کے ساتھ قومی پیسہ لگا کر دورے کیے لیکن ملک و قوم کو کیا فائدہ ملا کوئی یہ تو بتائے۔

Share This Article