مون سون کی پہلی بارش، کراچی جل تھل 9 شہری جاں بحق،حکومتی ادارے غائب، شہری بے یارومددگار، اسکول کالجز کی چھٹی کا اعلان  

 

شہر قائد میں مون سون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھل گئی ،بارش کے دوران کرنٹ لگنے کےمختلف واقعات میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ناقص سیوریج نظام اور بجلی کے بدترین نظام نے شہر کو مزید آسیب زدہ بنا دیا رین ایمرجنسی کے نام پر میں غفلت برتنے پر 6 افسران معطل کردیئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پیر کی صبح سے شروع ہونے والی ہلکی اور تیز بارش نے پورے شہر کا نظام درہم برہم کردیا بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے 9 افراد جاں بحق ہوگئے، ڈیفنس، گلستان جوہر اور خاموش کالونی میں 3 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے، محمود آباد اور پاپوش نگر میں کرنٹ لگنے سے 3 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، ملیر میں بھی کرنٹ لگنے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے۔

شہر میں چند گھنٹوں کی بارش نے بلدیاتی نمائندوں اور سندھ حکومت کی قلعی کھول دی، بارش سے تمام شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، نالے ابل پڑے، 500 سے زائد بلدیاتی نمائندوں کے باوجود کارکردگی صفررہی، جبکہ سندھ حکومت کا محکمہ بلدیات اور وزیر موصوف نے نا بارش سے قبل کوئی اقدامات کرنے کی سوچی اور نہ ہی شہر کی موجودہ صورتحال پر کوئی سرگرمی دکھائی دے رہی ہے، اس صورتحال میں اہالیان کراچی بے یارو مددگار ہیں نہ بلدیاتی ادارے ان کے مسائل حل کررہے نا سندھ حکومت ان کی کچھ سن رہی ہے۔

ملیر میں رین ایمرجنسی میں غفلت برتنے پر 6 افسران کو معطل کردیا گیا، معطل افسران میں اے ای ای ظہیر الدین، جمال عباسی، انجینئر فیاض علی ڈومکی، رسول بخش، اسرار احمد اورمحمد عالم شامل ہیں، افسران کو رین ایمرجنسی کے دوران غیرحاضری کومعطل کیا گیا۔

ان افسران کو معطل تو کیا گیا لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ سندھ حکومت نے کس بت کی رین ایمرجنسی لگائی تھی اور اس ایمرجنسی کیلئے کیا منصوبہ بندی کی گئی تھی، نہ ہی سڑکوں اور گلیوں میں حکومتی مشینری نظر آئی، نہ کہیں سینٹری ورکرز تھے، نہ سڑکوں پر خراب ہونے یا گڑہوں میں پھنسنے والی گاڑیوں کو نکالنے والی ایمرجنسی وھیکلز تھیں اور نہ ہی شہر میں بجلی کے نطام کو جاری رکھنے کیلئے کے الیکٹرک کی جانب سے اقدامات نظر آئے، جس پر شہریوں نے سندھ حکومت سے سوال کیا ہے کہ رین ایمرجنسی کہتے کسے ہیں اور اس کا نفاذ کیسے ہوتا ہے کیا حکومت کو معلوم بھی ہے۔۔؟؟

صدر میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ

کراچی میں سب سے زیادہ بارش صدر میں 60 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، سرجانی میں 50، شاہ فیصل 45 ملی میٹر، نارتھ کراچی 42 ملی میٹر، ناظم آباد میں 39، جناح ٓٹرمینل 35، یونیورسٹی روڈ پر 34.3، گلشن حدید میں 21، لانڈھی میں 11 اور کیماڑٰ میں 4.5 ملی میٹرریکارڈ کی گئی۔

بارشوں کے باعث جگہ جگہ پانی بھر جانے کے باعث محکمہ تعلیم سندھ نے کرچی کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں منگل 30 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں گٹروں کے ڈھکن برش سے قبل ہی اچانک کسی نے غائب کردیئے تھے جس کے بعد بارش سے جب سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھر گئی تو یہی گٹر گاڑیوں اور چلنے والوں کیلئے موت کا کنواں بن گئے، ناظم آباد نمبر 7 کے قریب 2 بسیں گڑھے میں پھنس گئیں، بسوں کو نکالنے کے لیے کوئی انتظام ہی نہیں نظر آیا۔

حکام کے دورے

ایک جانب شہری اس بارش سے بے حال اور شہرلاوارث نظر آیا تو دوسری جانب حکام کی جانب سے مختلف مقامات پر دورے کرکے اپن فرض پورا کردیا گیا ، گورنر سندھ عمران اسماعیل اورمیئر کراچی وسیم اختر نے گجرنالے کا معائنہ کیا، عمران اسماعیل نے کہا کہ گجرنالے کی صفائی انتہائی ضروری ہے، ہماری حکومت بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بااختیاربلدیاتی نظام ہوگا تو مسائل کم ہوں گے، وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ کراچی کو فنڈز دئیے جائیں، محدود وسائل کے بعد کے ایم سی نے اچھے انتظامات کیے ہیں۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ اپنے وسائل کے مطابق مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہمارے پاس فنڈز کی کمی ہے، وفاقی، صوبائی حکومت کراچی پر توجہ دیں۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی لیاری کے مختلف سڑکوں کا دورہ کیا، سعید غنی نے کہا کہ کئی سڑکوں سے پانی کی نکاسی مکمل کرلی گئی، ٹریفک کی روانی جاری ہے۔

 

 

Share This Article