- عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2019ءمیں ایران کی معاشی ترقی کی رفتار نیکاراگوا سے بھی پیچھے چلی گئی ہے۔ رواں سال جنوری میں یہ گراف مزید نیچے چلا گیا اور ایرانی معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ چھ فی صد تک آ گئی۔سال 2018ءکے وسط میں ایرانی معیشت میں ترقی کا تناسب 4 اعشاریہ 1 فی صد تھا۔
- ایران کا سالمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم
ایران نے اپنے اتحادی ملک عراق کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں ایران اور عراق نے ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کے قیام اور اشیاءکے تبادلے کے سمجھوتے پر دستخط کردیئے ۔ایرانی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تہران امریکی پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کے لیے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔
عراق کے ساتھ اشیاءکے تبادلے اور مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کا معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔خیال رہے کہ ایران نے عراق کے ساتھ یہ تجارتی سمجھوتہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا کی طرف سے ایران پرعاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
عالمی بینک کی طرف سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ جون میں ایرانی معیشت بدترین زبوں حالی اور بحران کا شکار پائی گئی ہے۔ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل پرعاید کردہ پابندیوں کے بعد تہران کی معیشت مزید دگرگوں ہوئی ہے۔
کچھ عرصے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران اور عراق کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا موجودہ سالانہ حجم 12 بلین ڈالرز سے بڑھ کر 20 بلین ڈالرز تک پہنچ جائے گا اس سورتحال مین موجودہ معاہدہ یقینا ایران کی اقعصادی سورتحال کو سنبھالنے میں مدد کرے گا

عراق اپنے ہمسایہ ملک ایران سے متعدد اشیاء درآمد کرتا ہے جن میں خوراک اور زراعت کی مصنوعات کے علاوہ گھروں میں استعمال ہونے والی اشیاء، ایئرکنڈیشنر اور گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس وغیرہ شامل ہیں۔ مارچ 2012ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ایران کی طرف سے عراق کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی مالیت چھ بلین امریکی ڈالرز کے برابر تھی جو کہ 2017ء کے دوران عراق کی مجموعی درآمدات کا قریب 15 فیصد بنتا ہے
عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2019ءمیں ایران کی معاشی ترقی کی رفتار نیکاراگوا سے بھی پیچھے چلی گئی ہے۔ رواں سال جنوری میں یہ گراف مزید نیچے چلا گیا اور ایرانی معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ چھ فی صد تک آ گئی۔سال 2018ءکے وسط میں ایرانی معیشت میں ترقی کا تناسب 4 اعشاریہ 1 فی صد تھا۔
ایران کا سالمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم
ایران میں ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے 2015 میں جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد 24 ٹن یورینیم افزودہ کیا۔ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے معاہدے میں ذخیرہ کیے گئے یورینیم کی حد 300 کلو گرام تک مقرر کی گئی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق علاوزہ ازیں معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے اور برآمد کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔

ایران میں ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ نے بتایا کہ ایران نے 300 کلو گرام نہیں بلکہ 24 میٹرک ٹن یورینیم افزودہ کیا ہے۔ایرانی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی کے مطابق ان کا ملک بھاری پانی کے آرآ ری ایکٹرز میں دوبارہ کام کا آغاز کرے گا،رپورٹوں کے مطابق بھاری پانی کے آراک ری ایکٹرز کو پلوٹونیم تیار کرنے کے واسطے ڈیزائن کیا گیا جو جوہری ہتھیار سازی میں کام آ سکتا ہے۔ یہ ایران کی سب سے بڑی ایٹمی تنصیب ہے جو ملک کے شمال مغرب میں آراک شہر سے 75 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔
یورینیئم افزودگی کے حوالے سے ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جس انداز سے امریکہ نے یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ ہوکر بلاجواز ایران پر اقتصادی و معاشی پابندیاں عائد کیں اور خطے میں جنگ کے حالات پیدا کیئے ایسی صورت میں ایران وہی کرے گا جو اسے بہتر لگتا ہے اور جو اس کے ملک اور ایرانی عوام کیلئے ضروری ہے، ایرانی حکومتی ذرائع کے مطابق ہم نے کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن یہ مذاکرات کسی شرط پر یا کسی فریق کی پسند ناپسند پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہیئے یہ نہیں ہوسکتا کہ ساری پابندیاں بھی ایران سہے اور پھر بین الاقوامی ڈکٹیشن بھی ایران کو ہی برداشت کرنا پڑے۔ دنیا کو اور خاص طور پر امریکہ کو ایران کی حیثیت و اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔