چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ کے لیے سینیٹ اجلاس کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، اجلاس یکم اگست کو ہوگا ،سینیٹ اجلاس میں قرارداد سے متعلق بیلٹ پیپر تیار کر لیے گئے ہیں جن پر خفیہ رائے شماری کرائی جائے گی، ہر رکن حروف تہجی کے حساب سے اپنا بیلٹ پیپر حاصل کرے گا۔
قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دے کر بیلٹ باکس میں ڈالنا لازمی ہوگا، دونوں عہدوں پر انتخابات کے لیے پریزائیڈنگ افسر شیڈول کا اعلان کریں گے جب کہ سینیٹر بیرسٹرسیف نئے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرائیں گے، سینیٹ سیکریٹریٹ نے قرارداد پر ووٹ کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا، سینیٹ سیکریٹریٹ نے پولنگ بوتھ میں موبائل فون لے جانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق بیلٹ پیپر کسی کو دکھانا یا تصویر بنانا منع ہے، ووٹ کی رازداری کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا، قرارداد پر رائے شماری بہ ذریعہ خفیہ بیلٹ ہوگی، واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے سینٹ میں اپنے ہی منتخب کردہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومتی ارکان نے بھی ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا اعلان کیا۔

اپوزیشن کی جانب سےاس سلسلےمیں رہبرکمیٹی بنائی گئی تھی جس نے میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کیا۔ اگر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کام یاب ہوتی ہے تو پھر دونوں عہدوں کے لیے ایک بار پھر انتخابات ہوں گے۔
دوسری جانب چیئرمین سینٹ کیلئے اپوزیشن کے نامزد امیدوار میر حاصل بزنجو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اسی دن ہی جیت گیا تھا جس روز میرا نام چیئرمین سینیٹ کے لیے تجویز کیا گیا تھا، چیئرمین سینیٹ کے لیے مجھے اپوزیشن کے 65 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوہدری تنویر بیرون ملک ہونے کے باعث غیر حاضر ہیں جب کہ کامران مائیکل بھی پروڈکشن آرڈر پر ووٹ ڈالنے آئیں گے۔

میر حاصل بزنجو نے کہا ہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو مستعفی ہوجانا چاہیئے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینٹ کیوں استعفیٰ دیں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے وہ اسے کامیاب کرنے کی فکر کریں، چیئرمین سینٹ کے استعفے کے مشورے نہ دیں۔