کیا اسامہ بن لادن کا بیٹا حمزہ بن لادن مارا گیا۔۔۔؟؟

 

امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے تین عہدیداران نے دعوی کیا ہے کہ القاعدہ لیڈر اسامہ بن لادن کا بیٹا اور بن لادن خاندان کا وارث حمزہ بن لادن کی موت ہوچکی ہے، تاہم امریکی حکام اس خبر کی تردید یا تائید کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی یہ بتایا جارہا ہے کہ حمزہ بن لادن کو کب اور کہاں مارا گیا ہے یا اسکی موت طبعی طور پر واقع ہوئی ہے یا کسی کارروائی کے دوران۔۔؟

 

اس حوالے سے جب ایک صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک تقریب کے دوران سوال کیا تو ٹرمپ نے  نوکمنٹس کہہ کر سوال کو گول کردیا، دوسری جانب امریکی اینٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حمزہ بن لادن بہت تیزی سے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو یکجا کررہا تحا اور حال ہی میں اس نے سعودی عرب کو بھی دھمکی دی تھی کہ وہ لازمی اپنے باپ کی موت کا بدلہ سعودی اور امریکیوں سے لے گا۔

 

 

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں سعودی حکومت نے بن لادن خاندان کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے ساتھ، حمزہ بن لادن کی سعودی شہریت بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، سعودی حکومت نے یہ فیصلہ اگرچہ نومبر 2018 میں کیا لیکن اس کا اعلان مارچ 2019 میں اس وقت کیا گیا جب امریکہ نے حمزہ بن لادن کے بارے میں اطلاع دینے والے کیلءے 10 لاکھ ڈالرز انعام کا اعلان کیا تھا۔ تازہ خبر کے تحت اگر حمزہ بن لادن کی موت کسی طریقے سے واقع ہوچکی ہے تو القاعدہ نیٹ ورک جو دوبارہ منظم ہورہا تھا اس کی جڑیں کمزور ہوجائیں گی کیونکہ اب کوئی ایسا نہیں جو القاعدہ دہشت گردوں کو کسی ایک جھنڈے تلے جمع کرسکے۔

اقوام متحدہ کی دہشت گرد لیڈروں کی فہرست میں شامل

اقوام متھدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں حمزہ بن محمد اسامہ بن لادن کو دہشت گرد افراد کی فہرست میں فروری 2019 میں شامل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حمزہ بن لادن کا تعلق دہشت گرد گروپ داعش اور القاعدہ سے ہے وہ انھیں فنڈنگ بھی کرتا ہے اور ان گروپوں کے ذریعے دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کے منصوبوں میں بھی شریک ہے۔

 

 

Share This Article

تازه ترین