بھارت میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ ہندو انتہا پسندوں کے سلوک نے اب انتہا ہی کردی ہے اور نہ انھیں کوئی روکنے والا ہے نہ کوئی ٹوکنے والا بلکہ مودی سرکار نے بھی ایسے ہی آنکھوں پر پٹیاں باندھ رکھی ہیں جیسے اس واقعہ میں ہندو انتہا پسند نے شرمناک اور انسانیت سے گری ہوئی حرکت کرکے دکھایا۔
واقعہ کچھ ایسا عجیب اور افسوسناک ہے جسے بیان کرتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے کہ کوئی اتنا بھی بدکردار، بدتہذیب، بدلحاظ اور انتہا پسند ہوسکتا ہے ہوا یہ کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شریک ہندو انتہا پسند رہنما اجے گوتم نے آنکھوں پر ہاتھ صرف اس لیے رکھ لیے کہ اسے مسلمان اینکر خالد کا چہرہ نہ دیکھنا پڑے، مسلمانوں سے نفرت کی یہ انتہائی حد ہے۔
براہ راست پروگرام کے دوران دوسرے اینکر مسلمان اینکر خالد کو بات جاری رکھنے کا کہتے رہے لیکن ہندو انتہا پسند نے اپنے چہرے سے ہاتھ نہ ہٹائے، ٹی وی چینل کے میزبان نے سوال اٹھایا کہ ہم ساتھ ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے، ہر بات پر ہندو مسلمان کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔؟؟ لیکن اجے گوتم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ٹی وی میزبان نے کہا کہ خالد آپ کو پنڈت اجے گوتم دیکھیں گے نہیں کیونکہ تم مسلمان ہو پر خالد تم اپنی گفتگو جاری رکھو یہ سنیں گے آپ ان کی پرواہ نہ کریں۔اجے گوتم کو ایک اور ہندو انتہا پسند کی جانب سے مسلم بائیک رائیڈر کے ساتھ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر تبصرے کیلئے بلایا گیا تھا لیکن اس کٹر ہندو انتہا پسند نے واقعہ کی مذمت کرنے کے بجائے مسلمان اینکر کو نہ دیکھنے کے لیے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے انتہا پسندی کی ایک اور بدترین مثال قائم کردی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک بائیک رائیڈر کھانا لے کر کسی ہندو انتہا پسند کے گھر گیا تو اس نے رائیڈر کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کھانا لینے سے انکار کردیا تھا۔ مسلمان بائیک رائیڈر نے اپنے ساتھ ہونے والے اس تضحیک آمیز روئیے پر سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تھی جس کے بعد لوگوں کی جانب سے ہندو انتہا پسند کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، بھارتی اینکر نے بھی کہا تھا کہ کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔
بھارت میں دن بدن مسلمانوں کے ساتھ ہندو انتہا پسندوں کا سلوک بدترین ہوتا جارہا ہے اور ہندو غنڈے جب اور جہاں چاہیں کسی بھی معمولی بات پر کسی مسلمان کی تضحیک کرنے یا اسے تشدد کرکے مار دینے سے بھی دریغ نہیں کررہے اور اب تک اس طرح کے واقعات میں ملوث کسی ہندو دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی سیکولرریاست کے دعویدار بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ اس طرح کے بدترین سلوک پر بھارت میں کچھ آوازیں تو اٹھ رہی ہیں لیکن ان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے کان پر جوں رینگ رہی کہ وہ بھارت کے اس مکروہ چہرے سے نقاب اٹھا سکیں۔