بھارتی ڈرامہ بے نقاب، کلبھوشن تک قونصل رسائی کی پاکستانی پیشکش مسترد کردی

 

بھارت نے ایک بار پھر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کی مخلصانہ پاکستانی پیشکش ماننے سے انکار کر دیا۔ اور کہا ہے کہ پیشک اسی وقت مانی جاسکتی ہے جب ملکاقات میں کوئی رکاوٹ نہ ہو جبکہ یہ شرط بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دو روز قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن جادھو کت قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کر دی ہے۔ بھارت نے پاکستان کی جانب سے کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی پیشکش ماننے سے انکار کرتے ہوئے ’را‘ کے جاسوس سے ملاقات کے لیے شرائط بھی رکھ دیں۔

جاسوس ہونے کے باوجود بھارت کا مطالبہ ہے کہ ’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن جادھو تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کی جائے۔

عالمی عدالت انصاف نے 17 جولائی کو بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی را کے جاسوس کو بری کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی اور پاکستان کو بھی کہا تھا کہ بھارت کو کلبھوشن جادھو تک قونسلر رسائی دی جائے۔

بھارت نے پاکستانی پیشکش کو مسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ عالمی عدالت انصاف تک جانا صرف پاکستان کو دنیا بھرمیں بدنام کرنےکی ایک سازش تھی جس میں وہ بری طرح ناکام ہوگا، اب پاکستانی پیشکش پر انڈیا کے انکار سے ان کا ایک ڈرامہ اور بے نقاب ہوگیا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی جاسوس سے ملنے کیلئے کسی کو بھی آزادانہ اجازت دی جائے اس کا ایک طریقہ کار مقرر ہے، کیا یہی بہت نہیں کہ پاکستان نے قونصلر رسائی کی اجازت دیدی ہے۔۔؟؟

کلبھوشن جادھو

3 مارچ 2016 کو پاکستان نے ملک میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کیخلاف ایک اہم کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا اور بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو ایران کے سرحد ی علاقے ساروان سے پاکستانی صوبے بلوچستان کے علاقے مشاخیل میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا۔بھارتی جاسوس کے قبضے سے پاسپورٹ ، مختلف دستاویزات، نقشے اور حساس آلات برآمد ہو ئے۔

ابتدائی تفتیش میں بھارتی جاسوس نے اعتراف کیا کہ وہ انڈین نیوی میں حاضر سروس کمانڈر رینک کا افسر ہے اور 2013 سے خفیہ ایجنسی ‘را’ کیلئے کام کررہا ہے جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے، بلوچستان اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرنا اس کا اہم مشن تھا۔

23 جنوری 2017 کو پاکستان نے کلبھوشن کیس میں تحقیقات کیلئے بھارتی حکومت سے معاونت کی درخواست کی۔ 21  مارچ 2017 کو پاکستان نے بھارت سے تحقیقات میں معاونت کا مؤقف ایک بار پھر دہرایا اور یہ واضح کیا کہ کلبھوشن جادھو تک کونسلر رسائی کیلئے معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔ 10اپریل 2017 کو ملٹری کورٹ نے کلبھوشن جادھو کے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔ بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کرائی جب کہ اس ملاقات میں کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیا۔

Share This Article

تازه ترین