مقبوضہ کشمیر میں غیر یقینی صورتحال،وادی سے سیاحوں اورغیرکشمیری طلبا کو واپس جانے کا حکم  

 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کیا کرنے جارہی ہے اس حوالے سے واضح طور پر کچھ بتایا نہیں جارہا لیکن جس قسم کے اقدامات کیئے جارہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ مودی سرکار کچھ ایسا کرنے جارہی ہے جو کشمیریوں کے مفاد مین کسی صورت نہیں ہوسکتا۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا: ‘کشمیر کی ‘موجودہ صورت حال’ کے لیے فوج اور ايئر فورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے؟ یہ 35 اے یا حد بندی کے متعلق نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا الرٹ واقعی جاری کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کوئی بالکل ہی مختلف چیز ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے حوالے سے بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے کئی رہنما بیانات بھی داغ چکے ہیں، چند روز قبل بھارتی وزارت داخلہ نے بغیر کوئی وجہ بتائے مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد مودی سرکار جو امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کے بعد پہلے ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہے کی جانب سے صرف دو ہفتے کے دوران مقبوضہ وادی میں مزید 38 ہزار فوجی تعینات کردیے۔اس اقدام نے وادی میں سراسیمگی پھیلا دی ہے. عوام خوف و ہراس کا شکار ہیں، لوگوں نے اشیائے خورونوش محفوظ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے.ادھر بیش تر پیٹرول پمپس بند ہیں،اے ٹی ایمز پرقطاریں لگ گئیں، بھارتی فورسز کو دہلی کی جانب سے چوبیس گھنٹے کارروائی کے لئے تیار رہنےکی ہدایت کر دی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر بھی یہ خبریں گرم تھیں کہ انڈیا کےآئین کےتحت کشمیرکوحاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کیا جائے گا اور امکانی عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر میں عام لوگ کسی بڑی واردات کے امکان کی افواہوں سے خوف و ہراس کی گرفت میں ہیں۔ حکومت تو کہتی ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن حکومتی سطح پر بعض اعلانات اورجنگی پیمانے کی فوجی نقل و حمل سے ان خبروں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

فوج اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے خفیہ اطلاعات کی موصولی کا دعوی کرتے ہوئے ایک روز قبل انکشاف کیا تھا کہ امرناتھ یاترا میں خلل ڈالنے کیلئے عسکریت پسند بڑے حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کے فوراً بعد حکومت نے سیاحوں اور یاتریوں کو فوراً گھر لوٹنے کا حکم دیا حالانکہ یاترا کے اختتام میں ابھی بارہ دن باقی ہیں۔

قابل ذکر ہے بات یہ بھی ہے کہ کشمیر میں گذشتہ ایک سال سے نئی دلی کا براہ راست انتظام گورنر ستیہ پال ملک کے ذریعہ چل رہا ہے۔ اسمبلی کے لیے انتخابات کو بار بار ملتوی کیا جارہا ہے حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر ہی مسلح عسکریت پر قابو پالیا گیا اور حالات بھی بہتر ہوئے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کردیا

مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نےضلع شوپیاں میں آپریشن کیا جہاں بارہ مولا اور پندوشنان کے علاقوں میں 2 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ بھارتی فوج نےگزشتہ روزبھی پندوشان کے علاقے میں ایک نوجوان زینت الاسلام کو شہید کیا تھا۔

 

Share This Article