امی کچرے والا آیا ہے، اسے کچرے کا ڈبہ دے دوں۔۔؟؟
بیٹا دیکھو یہ کچرے والا کیوں نہیں آیا اب تک رات سے کچرا پڑا سڑ رہا ہے۔۔
اوئے کچرے والے ذرا یہاں سے کچرا صاف کردو بہت گندگی ہورہی ہے۔

یہ اور اس طرح کے دیگر جملے ہم روزانہ سنتے بھی ہیں اور ان کا استعمال بھی کرتے ہیں لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان الفاظ میں غلط کیا ہے۔۔؟؟ اس بارے میں جب کسی سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہتا نظر آتا ہے ” بھیا کچرے والاے کو کچرے والا نہ کہا جائے تو کیا کہیں۔۔؟؟

اگر ایک لمحے کیلئے فرض کرلیا جائے کہ کچرا اٹھانے والا ہی کچرے والا کہلانے کا مستحق ہے تو کیا کوئی یہ جواب دے گا کہ پھر کچرا پھیلانے والے کو کیا کہیں گے۔۔ صفائی والا۔۔۔۔؟؟

 

کچرا ہم پھیلاتے ہیں گندگی ہم کرتے ہیں تو کیا یہ درست جملہ نہیں کہ اصل میں ہم کچرے والے ہیں اور اس کچرے کو اٹھانے اور صفائی کرنے والا اصل میں صفائی والا ہے۔۔؟؟

جب تک ہم اپنی سوچ اور اپنی اولاد کی تربیت میں مثبت تبدیلی نہیں لائیں گے اپنے گھر، محلے، شہر اور ملک کو صاف ستھرا صحت مند ماحول جیسا بنانا ممکن ہی نہیں، کراچی میں "کلین کراچی مہم” کے نام سے صفائی مہم شروع کردی گئی ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ یہ کچرا تو شاید چند روز میں صاف ہوجائے گا لیکن اس کے بعد جو کچرے پھیلے گا اس کا کیا ہوگا۔۔؟؟

کیا صفائی مہم کے ساتھ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم لوگوں کے ذہنوں کی گنددی بھی صاف کریں۔۔؟؟ وہ گندگی جو ہمارے اذہان میں  کچرا پھیلانے سے لے کر صفائی والے کو کچرے والا کہنے تک پھیلی ہوئی ہے۔

بات عجیب لیکن بالکل سچ ہے کہ دنیا کا ہر شخص چاہے وہ کسی بھی مذہب، مسلک، قومیت سے تعلق رکھتا ہو وہ اپنی ذات میں ایک سوئپر ہے، حیران نا ہوں کیا یہ سچ نہیں کہ ہر شخص صبح اٹھ کر فطرت کے تقاضوں کے تحت حوائج ضروریہ سے فارغ ہوکر اپنی صفائی خود کرتا ہے۔۔؟؟

کیا آپ جو اپنی گندگی صاف کرتے ہیں کسی اور کی بھی گندگی صاف کرنے کا تصور کرسکتے ہیں۔۔۔۔؟؟

بالکل نہیں اور نہ ہی کرنا چاہیں گے تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اصل کچرے والے، گندگی والے سوئپر تو ہم ہیں جبکہ وہ بندہ جو نہ صرف فطرت کے تحت صبح اپنی صفائی باتھ روم جاکر خود کرتا ہے وہ آپ کی گندگیاں، کچرے کو بھی صاف کرتا ہے تو کیا وہ صحیح معنوں میں صفائی والا نہیں ہوا۔۔؟

اس کڑوے سچ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی شدید ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے ذہن اور اپنی اولاد کی تربیت میں یہ بات شامل کریں کہ جب تک تم کچرا پھیلاتے رہو گے تمھارا شمار کچرے والے میں ہی ہوگا جس دن تم نے صفائی کی اصلیت سمجھ لی اس دن خود کو صفائی والا کہنا اور یہ سمجھ لینا کہ تم نے ایمان کا نصف درجہ اپنا لیا ہے کیونکہ ” صفائی نصف ایمان ہے”۔

کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی اولاد کو یہ بھی تربیت دیں کہ صبح اٹھ کر باتھ روم سے حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد سب سے پہلے خود اپنا بستر صاف کریں اور پھر اپنے اسکول کالج یا دیگر امور میں مصروفیت کے ساتھ اپنی یہ عادت بنالیں کہ جہاں جائیں کچرے کو ڈسٹ بن میں ڈالیں اور ممکن ہو تو اپنے ارد گرد جتنی صفائی کرنے کی ذمہ داری لے سکیں اتنا اچھا ہوگا پھر دیکھیں کہ آپ کا ماحول تو صاف ہوگا ہی آپ کے ذہن پر کتنے مثبت اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ گندگی کے ماحول میں تعفن زدہ سوچ کے سوا کچھ پیدا نہیں ہوسکتی جبکہ صاف اور صحت مند ماحول، انسانیت سکھاتا ہے اور انسانیت سے آپ کے کردار کی تشکیل ہوتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے