Contents
- پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا بھارت کاکوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا ، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی ساتھ کھڑا ہے، کشمیری عوام کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رہےگی۔
- ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طورپر متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کاکوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیرکی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا۔ ترجمان کاکہنا تھا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ متنازعہ علاقہ ہے، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے، بطورفریق پاکستان اس غیرقانونی اقدام کےخلاف ہرممکن قدم اٹھائے گا۔
- پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب
- مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منگل کی صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔
- بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
- کور کمانڈرز کانفرنس بھی ہوگی
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا بھارت کاکوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا ، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی ساتھ کھڑا ہے، کشمیری عوام کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رہےگی۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طورپر متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کاکوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیرکی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا۔ ترجمان کاکہنا تھا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ متنازعہ علاقہ ہے، بھارتی حکومت کافیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئےناقابل قبول ہے، بطورفریق پاکستان اس غیرقانونی اقدام کےخلاف ہرممکن قدم اٹھائے گا۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب

مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منگل کی صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
کور کمانڈرز کانفرنس بھی ہوگی
