عمرعبداللہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ جموں کشمیرعمرعبداللہ نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کوچیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرسےمتعلق فیصلہ یکطرفہ،غیرقانونی اور غیرآئینی ہے، ان کا کہنا تھا کہ دلی کا فیصلہ دیرپا اور خطرناک اثرات مرتب کرے گا۔
عمرعبداللہ کا کہنا تھا یہ فیصلہ مقبوضہ وادی کےعوام کیخلاف جارحیت ہے، دلی نےفیصلہ کی راہ ہموار کرنےکیلئےچوری ،دھوکہ دہی کاسہارا لیا، بدقسمتی سے ہمارے سیاہ ترین خدشات پورے ہوگئے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا دلی حکومت نے ہم سے جھوٹ بولا کوئی فیصلےکاارادہ نہیں، دلی نےمقبوضہ وادی کوچھاؤنی میں تبدیل کرنےکےبعدفیصلےکااعلان کیا، مقبوضہ جموں کشمیرکی جمہوری آوازلاکھوں فوجیوں کی موجودگی میں قیدہے۔
محبوبہ مفتی
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے بڑوں کا الحاق کا فیصلہ غلط تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے، کشمیریوں خو اپنی عزت اور بقا کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، ہمارے بڑوں کا 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا غلط تھا۔
محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کو جو خاص آئینی حیثیت دی گئی تھی یا اب بھی اگر ہے تو یہ کوئی تحفہ نہیں بلکہ اسی ملک کی پارلیمان نے ہمیں آئینی ضمانت دی تھی۔ یہ جموں و کشمیر کو فلسطین کی غزہ پٹی کی طرح بنانا چاہتے ہیں ۔ یہ کشمیر کے ساتھ وہ کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انھوں نے ہمیں دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ میرے خیال میں صرف جموں و کشمیر کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل تاریک ہے۔‘
انھون نے کہا کہ انڈین حکومت اپنے اس اقدام سے نہ صرف انڈیا کے مسلمانوں کو مزید تنہا کر دے گی بلکہ انھیں خوفزدہ بھی کر دے گی اور اسے ایک تنبیہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا کہ ان کے احکامات کو مانیں اور اگر کوئی اختلاف کرے گا تو اس کو سرعام ننگا کر دیا جائے گا یا اس کے وقار کو مجروح کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر صرف مسلم اکثریتی ریاست تھی اور اس جموں و کشمیر سے بھی آغاز ہو گیا ہے اور انھوں نے اس عمل پر کام شروع کر دیا ہے کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیں۔
محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک مسلم اکثریتی ریاست کے عوام کو اختلاف رائے کا حق نہیں ملے گا تو ’میں نہیں جانتی کہ انڈیا میں رہنے والے مسلمان کیا کریں گے کیونکہ وہ ہم سے بھی زیادہ بےیارومددگار ہیں۔ میرے خیال میں مودی حکومت کا ارادہ مسلمانوں سے پاک انڈیا بنانے کا ہے۔ جموں و کشمیر نے مختلف شرائط پر انڈیا کا ساتھ دیا تھا اور اس مرتبہ انھیں ختم کر دیا گیا ہے۔‘
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر پر آرٹیکل 370 ختم کرنا غیرآئینی عمل ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی آئین میں تبدیلی غیرقانونی ہے۔وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب نے آرٹیکل 370 کے حق میں مظاہروں پر بھی پابندی لگادی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے کسی بھی ریاست کو صدارتی آرڈر کے ذریعے ضم کرنے کی غلط روایت پڑ جائے گی۔
ترجمان انڈین کانگریس
دوسری جانب کانگریس کے ترجمان جے ویر شیرگل نے کہا کہ ریاستی اسمبلی سے منظوری کے بغیر صدر آرٹیکل 370 ختم نہیں کرسکتے ہیں، اسمبلیاں تحلیل ہوں پھر بھی آرٹیکل 370 ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، افسوس ہے قانون اور آئین کا دور ختم ہوچکا ہے۔ کانگریس رہنما چدمبرم نے کہا کہ ان کی پارٹی کو خدشہ تھا کہ بی جے پی حکومت کوئی غلط قدم اٹھائے گی لیکن یہ ان کے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ حکومت ایسا تباہ کن قدم اٹھائے گی۔