وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیر کے متعلق جو اقدام کیا ہے وہ نہ صرف تباہی کا راستہ ہے بلکہ اب کشمیر میں جدوجہد آزادی مزید تیز ہوگی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت نے جو کل فیصلہ کیا اس کا اثر ساری دنیا میں جاسکتا ہے۔ہم اس مسئلے کو پوری دنیا کے سامنے اٹھائیں گے ہوسکا تو عالمی کرمنل کورٹ بھی جائیں گے۔ ہمارا مقابلہ نسل پرستانہ رویئے کے حامل ملک سے ہے۔
وزیراعظم کے خطاب کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تقریر شروع کی اور وزیراعظم کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے بار بار انھیں نیازی صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔۔۔ان کی تقریر کے بعد وزیر اعظم نے اپنے جواب میں پہلے اپنا پورا نام بتاتے ہوئے کہا کہ میرا پورا نام عمران احمد خان نیازی ہے بہتر ہے کہ اوپزیشن لیڈر کو اتنا ہی شوق ہے تو پورا نام لیں انھوں نے کہا کہ اپوزیشن تو ایسا لگ رہا ہے کہ چاہتی ہے کہ ہم فورا بھارت پر حملہ کردیں، مجھے اس بات کا جواب دیں کہ آج مجھ پر اور میری حکومت پر تنقید کررہے ہیں اپنے 5 سالہ دور میں انھوں نے کیا کارنامہ انجام دیا۔۔؟؟
اس سے قبل اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ بار بار کہ چکا ہوں کہ دو ایٹمی قوتیں ایسا رسک نہیں لے سکتیں، اپنا مسئلہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے، لیکن بھارتیوں میں ایک تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں نظر آتا ہے، انہوں نے آزاد کشمیر میں بھی کچھ کرنا ہے، اب بھارت کوئی ایکشن لیا تو ہم بھرپور جواب دیں گے، لیکن یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ جنگ کی صورت میں دو باتیں ہوسکتی ہیں اگر ہمارے خلاف جنگ جاتی ہے تو بہادر شاہ ظفر بن کر ہاتھ کھڑے کردیں یا ٹیپو سلطان کا راستہ اپنانا ہوگا اورخون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، اور اس لڑائی میں پھر سب کچھ ہوگا۔ اور پھر جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آئے گی۔
عمران خان نےکہا کہ نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا، یہ ایکشن لینے کا وقت ہے،دنیا سےاپیل کرتے ہیں ایک ملک جو انٹرنیشنل قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ اسے کبھی کسی نے کچھ کہا ہی نہیں روکا ہی نہیں جس سے اسے شہ ملی، اس کے سنجیدہ نتائج ہیں، یہ گیم وہاں جائے گی تو ایسا نقصان ہوگا کوئی تصور نہیں کرسکتا، یہ وہ سوچ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا، اگردنیا آج کارروائی نہیں کرے گی بیدار نہیں ہوگی اور اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد نہیں کرائے گی تو پھر ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ہر فورم پر لڑیں گے، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لڑیں گے، دیکھ رہے ہیں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کیسے جائیں، ہم اسے جنرل اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے، دنیا کو بتائیں گےکہ ساری دنیا کو اس کا نقصان ہوگا، کشمیریوں کے ساتھ سارا پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمان دنیا کی آواز ہے، مغرب کو حقیقت کا نہیں پتا، ہم مغرب میں جاکر بتائیں گے کہ کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتیوں سے کیسا ظلم ہورہا ہے، یہ ویسٹرن ورلڈ قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہمارا کام دنیا میں اس کو اٹھانا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو غربت کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح تھی، اس کے لیے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر کرنے کا سوچا، آتے ساتھ ہی بھارت کو کہا ایک قدم بڑھاؤ ہم دو بڑھائیں گے، افغانستان اور ایران بھی گیا، امریکا گیا تاکہ ماضی کی چیزیں ختم ہوں، سرمایہ کاری آئے اور ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی سے جب شروع میں بات کی انہوں نے ٹریننگ کیمپ جیسے خدشات ظاہر کیے، انہیں سمجھایا کہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا تو ہماری ساری سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آگئیں، ہم نے ایک نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا جس کے تحت عسکری گروپوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بھارت سے مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کی تو دیکھا وہ دلچسپی نہیں لے رہے تھے، اس کےبعد پلوامہ کا واقعہ ہوا، اس کے بعد پوری کوشش کی کہ انہیں بتائیں اس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن تب بھی احساس ہوا کہ ان کے الیکشن تھے اور انہوں نے اپنے الیکشن کے لیے پاکستان کو استعمال کرنا تھا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے ملک میں الیکشن جیتنے کے لیے ایک جنگی ماحول بنایا، ڈوزیئر بعد میں بھیجا، اپنے جہاز پہلے بھیجے، پاکستان ائیر فورس نے اس کا بہترین جواب دیا، ہم نے ان کا پائلٹ اس لیے بھیجا تاکہ انہیں بتائیں کہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں، ہم پھر خاموشی سے بیٹھ گئے اور الیکشن کا انتظار کیا، الیکشن کے بعد بھی بات چیت کی کوشش کی، بشکک میں ان کا رویہ دیکھا تو فیصلہ کیا کہ بھارت ہماری امن کی کوششوں کو غلط اور کمزوری سمجھ رہا ہے، پھر فیصلہ کیا کہ ان سے بات چیت نہیں کریں گے، کشمیر کے معاملے پھر ٹرمپ کو بیچ میں ڈالنے کی کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جس کا خدشہ تھا وہ سامنے آگیا، کل جو کشمیر میں کیا گیا وہ ایک دم نہیں کیا، یہ ان کے الیکشن کا منشور تھا، یہی ان کا نظریہ ہے، یہ آر ایس ایس کے نظریے کی بنیاد ہے، ان کے بانیان کا یہی نظریہ ہے، یہ صرف ہندو راج چاہتے ہیں، آج قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ پہلے انسان تھے جو اس نظریے کو بھانپ گئے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے کچھ لیڈر ماضی میں کہتے تھے پاکستان غلط بنا لیکن آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں قائد کا دو قومی نظریہ درست تھا، بی جے پی کی حکومت گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کیا یہ ان کا نظریہ ہے، ہمارا مقابلہ نسل پرستانہ نظریے سے ہے، کشمیر میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا، وہ ملک کے آئین کے خلاف گئے، سپریم کورٹ اور مقبوضہ کشمیر کی ہائیکورٹ کے خلاف گئے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور شملا معاہدے کے خلاف گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے ڈیموگرافی بدلنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے اپنے نظریے کے لیے سارے بین الاقوامی اور ملکی قوانین توڑ دیے، کشمیر کو الگ کردیا، سوال یہ ہےکہ کشمیر کے لوگوں پر جو ان سالوں میں ظلم ہوا کیا وہ قانون کی وجہ سے چپ بیٹھ جائیں گے، یہ اب مزید شدت پکڑے گا۔