اسٹولٹن برگ نے کہا کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے نہیں نکلے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اتحاد سے امریکا کے غیرمتوقع اخراج کی تیاری اس لیے نہیں کی جا رہی، کیوں کہ ایسی صورت میں دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ امریکا اس اتحاد سے نکل بھی سکتا ہے۔

اسٹولٹن برگ کی جانب سے یہ بات نیوزی لینڈ کے دورے کے موقع پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور نیوز روم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں نیٹو کے حوالے سے تمام قانون ساز متفق ہیں اور یورپ میں امریکا کی فوجی موجودگی اس عسکری اتحاد سے متعلق امریکا کے عزم کی عملی نشان دہی کرتی ہے۔

اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا، ”مضبوط نیٹو یورپ کے لیے بہت ضروری ہے، مگر یہ امریکا کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اس میں امریکا کا بے حد فائدہ ہے کہ اس کے 28 دوست اتحادی ممالک موجود ہیں۔‘‘

رواں برس کے آغاز پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد نجی تقاریب میں یہ کہتے نظر آئے ہیں کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد سے نکلنا چاہتا ہے۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ٹرمپ اصل میں اس اتحاد کے رکن ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ”اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ یورپ اور کینیڈا دفاع کی مدد میں اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ برسوں تک دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کے بعد اب ان ممالک میں ایک مرتبہ پھر دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب زیادہ اتحادی ممالک دو فیصد جی ڈی پی کی شرط پوری کر رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر نیٹو اتحاد پر تنقید کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ اتحاد غیرفعال ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے دفاع کی مد میں کم مالی وسائل خرچ کیے جانے کا بوجھ بھی امریکا پر پڑتا ہے۔

ع ت، م م ( اے پی)

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے