مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اپنے والد سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت پہنچیں تھیں جہاں سے نیب اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں منی لانڈرنگ کے معاملے پر طلب کیا گیا تھا لیکن انھوں نے پیش ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عید کے بعد آسکتی ہیں جس پر انھیں گرفتار کرلیا گیا۔
نیب نے اسی کیس میں نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے گرفتار کیا ہے، دونوں کو ابتدائی طور پر نیب ہیڈکوارٹر منتقل کردیا گیا ہے، چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس 2011 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کا سخت ردعمل

مریم نواز کی گرفتاری پر قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پھٹ پڑے اور انتہائی جوشیلے انداز میں انھوں نے کہا کہ ماضی مین ایک آمر ضیائ الحق کی شکل میں تھا اور دوسرا آمر عمران خان کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے بلاول بھٹو کی تقریر کی حمایت میں اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کردیا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
مراد سعید کا بلاول بھٹو کو جواب

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے مریم نواز کی گرفتاری پر بلاول بھٹو کے ردعمل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریم کی کرپشن پر گرفتاری پر بلاول بھٹو کی غیرت اچانک کیسے جاگ گئی یہ غیرت اس وقت کہاں تھی جب ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھتو کو شہید کیا گیا، اس وقت وہ کہاں تھے جب ان کے والد پر کرپشن کیسز بنے، بلاول بھٹو نے کراچی کی بدترین صورتحال پر کیوں ردعمل نہیں دیا۔مراد سعید نے کہا کہ بلاول بھٹوکی تربیت اور پرورش بھی کرپشن کے پیسوں سے ہوئی اس لیئے انھیں اتنی پریشانی ہے اگر ان میں صحیح معنوں میں غیرت ہوتی تو وہ کرپشن والوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کی تائید کرتے۔