کہتے ہیں ایک صاحب کو اپنی فرمانبردار بیوی کے ہر کام میں نقص نکالنے کی عادت تھی، بیوی بےچاری اپنی ہر ممکن کوشش کرتی کہ کسی طرح اس کے شوہر کو کوئی شکایت نہ ہو لیکن شوہر صاحب کسی نہ کسی طرح کوئی مین میخ نکال ہی لیتے تھے۔

صاحب کو ناشتے میں ہاف فرائی انڈا بہت پسند تھا، ایک صبح ناشتے میں بیوی نے شوہر کیلئے من پسند ہاف فرائی انڈا بنایا اور ناشتہ سجا کر پیش کیا ،شوہر کو کچھ اور تو نہ سوجھی کہنے لگے آج تو میرا موڈ ابلا ہوا انڈا کھانے کا تھا تم نے ہاف فرائی بنا دیا، بیوی صاحبہ فوری انڈا ابال کر لے آئیں، اب شوہر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا لیکن عادت تھی ہر بات میں کیڑے نکالنے کی۔

اس لیئے بولے، تم بھی کتنی نالائق بیوی ہوجس انڈے کو ابالنا تھا اس کو ہاف فرائی کردیا اور جسے ہاف فرائی کرنا تھا اسے ابال دیا، بیوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا غصے میں آکر دونوں انڈے اٹھا کر شوہر صاحب کے منہ پر مارے، بتانے والے بتاتے ہیں کہ بس وہ دن اور آج کا دن اب میاں صاحب کسی بات میں کیڑے نہیں نکالتے۔

 

یہ کہانی سنانے کی ضرورت اس لیئے پیش آئی کہ مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی ہر حکومت کا موقف بالکل واضح رہا ہےاوراس حوالے سے جب اور جہاں ضرورت پڑتی تھی حکومت اس کا اظہار بھی ضرور کرتی تھی کچھ کم یا زیادہ ہوجاتا تھا لیکن یہ سوچ کر برداشت کیا جاتا تھا کہ اس مسئلہ کو کئی دہائیاں گزرچکی ہیں اس لیئے اتنا بھی بہت ہے لیکن پھر بھی حکومت کبھی اپنی موقف سے نہیں ہٹی۔

 

اب یہ عمران خان کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ ان کی حکومت کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ کشمیر کے مسئلے نے ایک نیا ہی رخ اس وقت اختیارکرلیا جب 5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے انڈین آئین میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کو دی گئی خصوص حیثیت کو یک جنبش قلم ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھارتی ریاست قرار دینے کا ظالمانہ، غیرمنصفانہ اور یکطرفہ فیصلہ کر ڈالا اور پورے جموں و کشمیر کو ایک اوپن ایئر جیل میں تبدیل کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کے گھروں اور کشمیری رہنماوں کو مختلف جیلوں میں قید کردیا۔

 

بھارتی ظالمانہ اقدام کے ردعمل میں  حکومت پاکستان کی جانب سے کیا اور کتنے اقدامات کیئے گئے ذرا ملاحظہ کیجیئے گا۔۔۔

 

  • پاکستان نے سب سے پہلے ردعمل دیتے ہوئے بھارتی فیصلے کو مسترد کیا۔
  • کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھروپور حمایت کا اعادہ کیا۔
  • عسکری قیادت کی جانب سے بھی بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں بیان دیا گیا۔
  • قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں سول و عسکری قیادت نے بھارتی فیصلوں کی ایک مرتبہ پھر مذمت کی۔
  • کمیٹی نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بھرپورتائید کی۔
  • سینٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا۔
  • مشترکہ اجلاس میں حکومت و اپوازیشن اراکین کواپنے موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔
  • اسی دوران وزیر اعظم نے ملائیشیا، ترکی، سعودی عرب کے سربراہان سے رابطہ کرکے انھیں صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کی۔
  • وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ، اور اسلامی تعاون تنظیم تک اپنی آواز پہنچائی۔
  • امریکہ سے بات کی گئی، چین کا دورہ  کیا گیا۔
  • پھر قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اور اجلاس ہوا اس میں بھی سول و عسکری قیادت نے کشمیریوں کا ساتھ دینے اور بھارتی اقدامات کے خلاف فیصلے کیئے۔
  • بھارت سے تجارتی و سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا بڑا فیصلہ بھی کیا گیا۔
  • پارلیمنٹ نے مشترکہ اور متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی۔
  • پھر وزیر ریلوے نے جرات مندانہ طور پر پاک بھارت سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس اور دوستی بس سروس ختم کرنے کا اعلان کرڈالا۔
  • حکومت کی جانب سے مسلسل عالمی رہنماوں سے رابطوں کا سلسلہ بھی بدستورجاری ہے۔

 اتنے بروقت اور مسلسل اقدامات کے بعد اب شاید باقی یہی رہا ہے کہ حکومت پاکستان ڈائریکٹ ایٹم بم ہی انڈیا پر مار دے، شاید کچھ لوگ اس وقت بھی خوش نہ ہوں۔

 

بھارت کے جابرانہ اقدام پر پاکستان کا سخت ترین اصولی موقف اور بڑے و اہم اقدامات کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے تاحال یہی کہا جارہا ہے کہ عمران خان حکومت نے کشمیر پر صحیح حکمت عملی نہیں اپنائی، ان کا ردعمل موثر نہیں ہے، حالانکہ وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں بتا چکے ہیں کہ بھارتی اقدام خطے کیلئے نہ صرف تباہ کن ہوگا بلکہ اب کشمیر کی آزادی کی تحریک مزید شدت سے سامنے آئے گی انھوں نے ممکنہ جنگ کے نتائج سے دنیا کو بھی آگاہ کیا کہ یہ فقط پاک بھارت جنگ نہیں ہوگی بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گی، اس لیئے عالمی طاقتیں آگے بڑھیں اورمسئلہ حل کرائیں لیکن پھر جب اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں یہ بآور کرانے کی کوشش کی کہ ابھی مزہ نہیں آیا تو وزیراعظم نے واضح الفاظ میں پوچھا کہ آپ ہی بتادیں کیا اقدامات کرنے چاہیئں کیا بھارت پر حملہ کردوں۔۔؟؟

 

اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی اپوزیشن کا واویلا سمجھ سے بالاتر ہے، کیا ان نازک حالات میں یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا کہ اپوزیشن کے تمام رہنما مل کر ایک آواز میں حکومت کے ہر اقدام کو اپنی بساط کے مطابق آگے بڑھاتے۔۔؟؟ کیا اپوزیشن کا فرض نہیں تھا کہ وہ ماضی میں حکومت کرتے رہے تھے اور اپنے پرانے تعلقات کو مسلم دنیا میں استعمال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر غیرملکی رائے عامہ ہموار کراتے۔۔؟؟

لیکن  ہوا اس کے برعکس ہے، اپوزیشن کی جانب سے مسلسل "ڈو مور” کا مطالبہ ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ "واٹ مور”، اور کیا اور کیسے مزید اقدامات کیئے جائیں کس طرح پاکستانی حکومت اپنی ہی اپوزیشن کو مطمئن کرے۔۔؟؟ ایسی صورتحال میں کیا پاکستانی عوام کو نہیں لگتا کہ اپوزیشن کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اپنے مفادات کی جانب موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، معاملہ مریم نواز کی گرفتاری کا ہو یا کچھ اور اسے ایشو بنا کر مسئلہ کشمیر کو کیوں ہلکا کیا جارہا ہے۔۔؟؟

سوچنے کی بات ہے اور کسی سیاسی وابستگی کے بغیر ایک پاکستانی کی حیثیت سے واضح فیصلہ کرنے کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ایسے میں حکومت کے ہر اقدام کی بھرپور حمایت کریں یا حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اپنی ہی آواز کو دباتے رہیں۔۔؟؟

 

یاد رہے کہ 52 اسلامی ممالک میں صرف ہاکستان ہی ہے جس نے دنیا بھر میں جب اورجہاں جہاں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوا اس کے خلاف بروقت اور بھرپور آواز اٹھائی لیکن مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ کسی نے نہیں دیا لیکن وہ تو غیر ہیں یہ اپنے پاکستانی رہنما کیا کررہے ہیں ۔۔؟؟ ذرا سوچیں کیا ان میں ان صاحب کی عادت تو نہیں آگئی جو کہتے تھے کہ جس انڈے کو اباُلنا تھا اسے فرائی کردیا اور جسے فرائی کرنا تھا اسے اُبال دیا۔۔۔ کیا اپوزیشن انتطار میں ہے کہ کب دونوں انڈے ان کے منہ پر مارے جائیں۔۔۔؟؟ نہیں تو یہی بتادیں کہ انھیں اور کیا چاہیئے۔۔۔؟؟

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے