وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں سخت کرفیو کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کے احتجاج پر کہا ہے کہ بعد نماز جمعہ ہونے والا احتجاج ہفتے کو بھی جاری رہا، جب لاکھوں فوجیوں کی موجودگی اور سخت کرفیوں میں بھی ہزاروں کشمیری اپنے حق کیلئے احتجاج کرسکتے ہیں تو بھارت اور عالمی دنیا اندازہ لگالے کہ کرفیو ہٹنے کے بعد کشمیری جدوجہد کا کیا عالم ہوگا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارتی اقدام کے نتیجے میں کشمیر جدوجہد آزادی مزید شدت کے ساتھ سامنے آئے گی اور یہ جدوجہد کشمیر کی آزادی پر ہی ختم ہوگی انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کو فائرنگ اورکرفیو سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، چین نے بھی واضح مؤقف دیا ہے، اب ہمیں مزید محتاط ہونا ہے خدشہ ہے کہ بھارت کشمیری مظاہروں اور عالمی دباو سےخوفزدہ ہوکرپلواما جیسا واقعہ دہرائےگا اور پھر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جائے گا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی مودی کےغیرقانونی اقدامات کوعدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہےجموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی پارٹی نے بھی مودی سرکار کےاقدام کوعدالت میں چیلنج کیا، وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر ایسا ایشو ہے، جس پرقوم کی کسی صورت تقسیم نہیں نظرآنی چاہیے،کشمیرکےایشوپر اگر ہم تقسیم ہوگئے، تو کشمیریوں کامورال نہیں بڑھے گا،واضح کہتا ہوں جوبھی کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے گا، وہ محب وطن نہیں ہو سکتا،کشمیریوں کو کسی صورت نہیں دبایا جا سکتا بھارت اور دنیا سمجھ لے کہ پاکستان ہر حالت میں کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہے.