بارش اور شہر کی صورتحال

شہر کراچی میں مون سون کا دوسرا سسٹم داخل ہوتے ہی کراچی سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا آغاز ہوگیا ہے، کراچی کے علاقے نیو کراچی، سرجانی، شارع فیصل، ائیرپورٹ، ڈالمیا، یونیورسٹی روڈ، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، ڈیفنس، کلفٹن، صدر، ماڈل کالونی اور گلستان جوہر سمیت دیگر علاقوں میں صبح سے ہی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی جس کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔

بارش کی وجہ سےشہرکی متعدد سڑکیں زیرآب آگئی ہیں،جبکہ گلیوں میں پانی جمع ہےاورسیوریج سسٹم بالکل جواب دہ چکا ہےجس کی وجہ سےبارش اورسیوریج کےپانی نےکئی علاقوں میں صورتحال کو اذیت ناک بنادیا ہے، میدان تالاب اور گلیاں نالوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں، دوسری جانب ایک مرتبہ پھر صوبائی محکمہ بلدیات کی جانب سے تیز بارشوں سے قبل کوئی اقدامات نظر نہیں آءے محکمہ مقوسمیات 10 روز قبل ہی بارش کی پیہشگوئی کرچکا تھا لیکن متعلقہ محکموں کے اقدامات صرف اجلاسوں تک ہی محدود رہے، جس کا خمیازہ ایک مرتبہ پھر اہالایان کراچی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

شہری وصوبائی حکومت

میئرکراچی وسیم اختر کہتے ہیں کہ کے ایم سی کے پاس جو انڈر پاسسز اور علاقے ہیں وہاں مجموعی طور پر صورتحال قابو میں بھی ہے اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں تمام عملہ الرٹ پر ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے 7 انڈر پاسسز مین پانی جمع نہیں ہوا ہے اور ٹریفک گزر رہا ہے، جبکہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ چونکہ صوبائی حکومت کے پاس ہے تو وہی اس سلسلے میں بہتر بتاسکتے ہیں کہ انھوں نے اب تک کیا اقدامات کیئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر بلدیات ناصر شاہ کہتے ہین کہ وہ خود اور ان کا عملہ شہر کی سڑکوں پر موجود ہیں اور صورتحال کو مانیٹر کرنے کے ساتھ اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔

محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں 10 سے 55 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ بارش کا سلسلہ مزید  36 سے 42 گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے اتوار کو مزید تیز بارش سے 150 ملی میٹر تک اس کی سطح ہوسکتی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والا ہوا کا کم دباؤ ویل مارکڈ لو پریشر کی صورت میں سندھ میں داخل ہوگیا ہےجس سے بارش کا موجودہ سلسلہ شروع ہوا ہے، شہرمیں کبھی تیزاور کبھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہے گا اور سسٹم کے کمزور ہونے کے امکانات کم ہیں۔

بجلی کی بندش اور کرنٹ سے اموات

بارش کےباعث کرنٹ لگنےسے 4 افراد جاں بحق ہوئے،کرنٹ لگنے کے واقعات اورنگی ٹاؤن، سولجر بازار،منگھوپیر اور کورنگی میں پیش آئے، جبکہ مختلف علاقوں میں بجلی کے جھٹکوں نے قربانی کے 12 جانوروں کو بھی ہلاک کردیا۔

بارش کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جبکہ کے الیکٹرک نے نئی منطق نکالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کراچی کے نشیبی علاقوں مین پانی بھر جانے کی وجہ سے احتیاطی طور پر بجلی بند کی جارہی ہے، اس طرح امکان ہے کہ شہر کے 60 فیصد علاقے بجلی سے محروم رہیں گے، جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کے تار ٹوٹنے اور پی ایم ٹی پھٹنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی جھیل بن گئی

کراچی میں سپرہائی وے پر ہر سال قائم کی جانے والی ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہےجہاں عید قرباں کےموقع پرلائےگئےلاکھوں قربانی کے جانور کئی فٹ بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئےہیں 31 جولائی کوہونےوالی بارش سےبھی منڈی کی حالت خراب ہوئی تھی جس کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے لیکن تازہ بارشوں نےمنڈی سےنہ صرف خریداروں کوبیگانہ کردیا ہےبلکہ مویشیوں کے بیوپاریوں نےبھی واپس اپنے آبائی علاقوں کو جانے کا فیصلہ کرلیا ہے،مویشی بیوپاریوں کا کہنا ہےکہ ہم سےفی جانوربھاری ٹیکس تومقامی انتطامیہ نے لیا ہے لیکن بارش سے بچاوسمیت کوئی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں ہمارے جانورمررہے ہیں کئی کو بیماریاں لگ رہی ہیں، لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے