دنیا بھر کے مسلمان نہایت جوش وجذبے کے ساتھ عیدالاضحی مناتے ہیں اس موقع پر حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گائے ،بکرے اور اونٹ کی قربانی کرتے ہیں ۔جب اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے کا کہا تھا اور وہ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کوقربان کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔

وہ حضرت اسماعیل کے گلے پر چھری پھیرنے ہی والے تھے کہ اللہ تعالی نے اس جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا اور انھیں خوشخبری سنائی گئی کہ اللہ نے ان کی قربانی کو قبول کرلیا اورحضرت ابراہیم نے اس مینڈھے کو ذبح کیا۔قربانی کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ انھوں رہتی دنیا تک آنے والے مسلمانوں پر یہ قربانی فرض کردی۔

ہرمسلمان اس سنت کو پورا کرنے کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرنے لگا ۔اس واقعے کو ہوئے صدیاں گزرگئیں لیکن یہ سنت تا قیامت رہے گی ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اسے سنت کے بجائے ایک رسم بنا لیا ہے ۔سوائے چند مسلمانوں کے زیادہ تر لوگ اس موقع پر دکھاوا کرتے نظر آتے ہیں ۔

بچے تک آپس میں ایک دوسرے کے جانوروںکا موازنہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا جانور علاقے بھر میں مشہور ہو لوگ دیکھ کر واہ واہ کریں اور اس کی قیمت پوچھنے پر مجبور ہو جائیں ۔یہ بات یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ قربانی کے لئے اچھے سے اچھا اور تندرست جانور قربان کیا جائے لیکن اگر آپ کے پاس اتنا مال موجود ہے تو آپ دس بارہ لاکھ کی ایک گائے قربان کرنے کے بجائے ایک ایک لاکھ کی بارہ گائیں بھی تو قربان کرسکتے ہیں ۔

اس سے آپ کی قربانی بھی زیادہ ہوگی،ثواب بھی زیادہ ملے گا اور ان کا گوشت زیادہ سے زیادہ غرباء میں تقسیم ہوگا۔اللہ تعالیٰ بھی زیادہ سے زیادہ قربانی کا حکم دیتے ہیں ۔ لیکن آج کل بچے بچے کے ذہن میں یہ بات ہے کہ ’’چار کی جگہ ایک گائے لے لولیکن بہت اچھی گائے لو تاکہ خاندان میں ، محلے میں ہماری واہ واہ ہوجائے۔‘‘

بیوپاری اس موقع پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں ۔اور خریدنے والے خوب سے خوب تر کے چکر میں ان جانوروں کی منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں ۔یہاں آکر درمیانہ اور نچلا طبقہ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے ۔کیونکہ جب یہ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق جانور لینا چاہتے ہیں تو ان کو نہیں مل پاتا اور اگر مل بھی جاتا ہے تو لوگ اسے دیکھ کر طنز کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں ۔

سوچنے والی بات ہے کہ کیا ان کا یہ عمل درست ہے، کسی کو کیا پتہ کہ اللہ کی بارگاہ میں بارہ لاکھ والی گائے کی قربانی زیادہ مقبول ہورہی ہے یا ساٹھ ہزار والی گائے کی اللہ تعالیٰ تو نیتوں کو دیکھتے ہیں ۔

بہر حال قربانی جو بھی کررہا ہے اچھی ہی نیت سے کرتا ہوگا لیکن اگر وہ اس میں سے ریاکاری کو نکال دے تو نہ صرف اس کو زیادہ ثواب ملے گا بلکہ اس کے بچے بھی اس سنت کے اصل فضائل سے واقف ہوسکیں گے ۔اور جب وہ خود اس سنت کو ادا کریں گے تو وہ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہوگی۔

تو پھر خود پسندی کے اس دلدل سے اپنےآپ کو بھی نکالیں اور اپنے بچے کو بھی اس زہر کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ وہ ابھی سے قربانی کے مکمل مفہوم سےآگاہ ہوسکیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے