وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں کوئی بھی رکن پاکستان کے استقبال کیلئے پھولوں کا ہار لیئے نہیں کھڑا ہے سلامتی کونسل کا کوئی بھی رکن مسئلہ کشمیر پر پاکستان کیلئے رکاوٹ بن سکتا ہے اس لیئے پاکستانی قوم احمقوں کی جنت میں نہ رہے ہر کام سوچ سمجھ کے کرنا ہے۔

 

وزیر خارجہ نے مظفرآباد میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر کے ساتھ نماز عید ادا کی جس کے بعد انہوں نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی میں بھی شرکت کی، بعد ازاں صدر آزاد کشمیر مسعود خان کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امہ کی بات تو بہت کی جاتی ہے مگر امہ کے محافظوں کے مفادات بھارت سے منسلک ہیں، انہوں نے وہاں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

 

شاہ محمود قریشی نےکہا ہےکہ مقبوضہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل میں جانا سب سےاہم فیصلہ ہےاورچین نے کشمیریوں کامقدمہ پیش کرنے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں یاسین ملک کابے پناہ احترام ہےاوران کی حالت پرتشویش ہے،بھارت کلبھوشن یادیوکوفیملی سےملانے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود یاسین ملک کی اہلیہ کو ویزا کیوں جاری نہیں کرتا۔۔؟؟

 

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہم جوپیغام باہردینا چاہتے تھے وہ ہم بھیجنے میں کامیاب رہے، وزیراعظم دنیا بھر کی قیادت سے بات کر رہے ہیں، سیکیورٹی کونسل کیلئےحمایت حاصل کی جارہی ہے لیکن کشمیریوں کا متحرک ہونا اور مشترکہ پیغام جانا ضروری ہے۔

انہوں نےملکی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہےکہ پاکستان کے سیاسی ایجنڈے کو کشمیر کے ایجنڈ ےمیں ضم نہ کیجیے،کشمیر کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، کشمیر کے جھنڈے تلے پاکستان کی سیاست سے فائدہ نہیں ہوگا۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے