کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی ڈپلومیسی انتہائی ناقص دکھائی دی۔ مغربی ممالک نے کشمیر کے معاملے پر ہمیشہ بھارت کی پیٹھ تھپتھپائی اس لیے شاید پاکستان کو ان سے زیادہ توقع بھی نہیں تھی مگر پاکستان کو سب سے زیادہ بھروسہ عرب اتحادیوں پر تھا۔  تاہم عربوں نے پاکستان کے مقابلے میں‌ بھارت کے ساتھ اپنے مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی جس کا ثبوت عرب امارات کے امیر کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں‌ کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جب کہ سعودی عرب نے بھی محض ایک رسمی بیان دے کر حجت تمام کر دی۔

اس ضمن میں اگر دیکھا جائے تو مسلم دنیا کا سب سے بڑا اجتماع حج ہوتا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ خطبہ حج میں بھی امام کعبہ نے کشمیر کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا کیونکہ خطبہ حج ایک سرکاری تحریر ہوتی ہے جس کی منظوری سعودی شاہی محل سے دی جاتی ہے اس کا مطلب ہے کہ امام کعبہ کو واضح طور پر کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بات کرنے سے روک دیا گیا۔

یہ پاکستان کے لیے واضح اشارہ تھا کہ سعودی عرب اس معاملے میں‌ پاکستان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ دوسری جانب اگر چونتیس ممالک کے نام نہاد فوجی اتحاد کی بات کی جائے تو اس کی سربراہی پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں مگر اس اتحاد کا مقصد محض سعودی ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے نا کہ اسلامی ممالک کی مدد کرنا۔ نام نہاد اتحاد کا مقصدایران کے مقابلے میں صرف سعودی اثرو رسوخ کو بڑھانا ہے نہ کہ مظلوم امت مسلمہ کی مدد کرنا۔ فلسطین ، کشمیر اور روہنگیا پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اس اتحاد کی جانب سے شاید ہی کوئی بیان یا حرکت دیکھی گئی ہو جبکہ یہی اتحاد یمن میں مکمل طور پر سعودی مفادات کا تحفط کر رہا ہے۔

اسی طرح اگر اس سارے معاملے میں او آئی سی کا کردار دیکھا جائے تو وہ انتہائی شرمناک ہے۔ او آئی سی میں شامل خلیجی ممالک کو ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ معاشی مفادات عزیز رہے ہیں اس کی واضح مثال وزرائے خارجہ کی حالیہ کانفرنس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوارج کو دعوت بھی شامل تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو اس واقعے سے سبق سیکھ کر سعودی عرب کی زیر نگین ریاست بننے کی بجائے ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے جس میں‌ وہ محض سعودی کٹھ پتلی کی بجائے ایک مکمل خود مختار ریاست کے طور پر ابھر سکے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان نے سعودی دباو پر ہمیشہ ایران کو نظر انداز کیا ہے مگر اس کا صلہ پاکستان کے سامنے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یہ اسی طرح عرب ممالک کی کٹھ پتلی کے طور پر سامنے آتا ہے اگر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو خیلیجی ممالک کے تسلط سے آزاد نہیں کرتا تو ڈپلومیٹک فرنٹ پر اسے مستقبل میں بھی ایسی کئی ہزیمتوں‌کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

ٹی اے ایف

شفقنا اردو۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے