میئر کراچی وسیم اختر نے ڈسٹرکٹ ساوًتھ میں بارش کے دوران  ٹوٹے تاروں سے الجھ کر کرنٹ سے جاں بحق  تین نوجوانوں کے قتل کا مقدمہ درخشاں تھانے میں کے الیکٹرک کے خلاف درج کرادیا۔ وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت کو کہا تھا کہ حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں کے بعد کراچی کو آفت زدہ قرار دیا جائے، لیکن اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی بحیثیت میئر کراچی اور 3 کروڑ شہریوں کے نمائندے کے طور پر میں کراچی کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان کرتا ہوں۔

 

اس سے قبل کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں وسیم اختر نے کہا کہ لوگ مرر ہے ہیں شہر میں جگہ جگہ پانی جمع ہے لیکن نہ محکمہ بلدیات اور نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ کو کسی بات کی فکر ہے، کے الیکٹرک سے کوئی پوچھنے والا نہیں کراچی میں دو بارشوں میں 31 افراد کرنٹ لگنے سے مر گئے ان کے لواحقین سے کوئی ہمدردی کرنے بھی نہیں آیا، سندھ حکومت نے کے الیکٹرک سے نہیں پوچھا کہ بجلی کی فراہمی کے لیے کیا کررہی ہے، عید کے موقع پر بھی شہر کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہے،سندھ حکومت نے آج تک کے الیکٹرک سے کوئی میٹنگ نہیں کی ہے۔

 

میئر کراچی  نے کہا ہے کہ کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، عوام سندھ حکومت سے تنگ آچکےہیں، نہ جانے اس شہر سے کس بات کا بدلہ لیا جارہا ہے،پورا انفراسٹکچر تباہ ہوچکا لیکن شہر پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا جارہا ہر کوئی مجھ سےسوال پوچھتا ہے،او حال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کسی میٹنگ کسی منصوبےکیلئےمجھے نہیں بلاتی، انھوں نےاس موقع پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف اور چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ سندھ حکومت کی مجرمانہ حرکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے شہر کراچی کیلئے کوئی مربوط حکمت عملی بنائیں۔

 

وسیم اختر نےکہا کہ ان اختیارات کےساتھ اگلےبلدیاتی الیکشن کرانے ہیں تو بہتر ہے نہ کرائیں، صدر مملکت، گورنر سندھ کراچی کے ہیں کون کراچی کی ذمہ داری لے گا۔۔؟؟ میئرکراچی نےکہا کہ پانی کی نکاسی کے لیے ہمارے پاس صرف 12 پمپس ہیں، کراچی کے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں گٹر ابل رہے ہیں، پینے کا پانی نہیں ہے لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں، ملک کا آفت زدہ شہر کراچی ہے۔

 

کراچی میں صفائی مہم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ مجھے وفاقی وزیر علی زیدی کی نیت پر کوئی شک نہیں وہ خلوص دل سے شہر کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر صفائی یا دیگر کام کراچی والوں کے چندے سے ہی کرنے تھے تو پھر فائدہ کیا ہوا، یہ شہر تو پہلے ہی ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت کم از کم 10 ارب روپے کراچی میں بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے مختص کرے تاکہ شہر میں فوری طور پر صفائی اور مطلوبہ اقدامات کیئے جائیں۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے