اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ اتنے چھوٹے لوگ ہیں کہ درخواست کے باوجود بھی آصف زرداری کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی۔عید کی رات کو 12 بجے فیصلہ کیا گیا کہ فریال تالپور کو اسپتال سے جیل بھیجا جائے، ظالمانہ حکومت نے فریال تالپور کو اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا۔

 

انہوں نے حکومت کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب فریال تالپور کو جیل منتقل کیا جارہا تھا، اس وقت میں مظفرآباد میں اور آصف زرداری جیل میں تھے، فریال تالپور کے حوالے سے میرا خاندان درخواست دے گا اور ہم حکومت کو فریق بنائیں گے۔ بلاول کا کہنا ہے کہ یہ اتنے چھوٹے لوگ ہیں کہ درخواست کے باوجود بھی آصف زرداری کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، سزائے موت پر بھی قیدی کو نماز پڑھنے کا حق حاصل ہوتا ہے، شہادتیں دینے والا خاندان ایسے ہتھکنڈوں سے نہیں جھکے گا۔

 

پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومتی نمائندے کی آزاد کشمیر میں آنے سے اتحاد کی فضا قائم ہوئی، ہم صرف پیغاموں پر نہیں چل سکتے بلکہ ہمیں عملی اقدام کرنا ہوں گے، ہمیں کشمیریوں کیلئے جنگ بھی لڑنی پڑے تو لڑیں گے لیکن ہمارے حکمران قومی یکجہتی کو ختم کرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کشمیر کے معاملے پر کوئی حکمت عملی نہیں ہے، حکومت کو ان سوالات کا جواب دینا پڑے گا، قوم حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے، آپ کوئی پیغام نہیں دے رہے، صرف ٹوئٹ کر رہے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پہنچ کر پتہ چلا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو کشمیر کے پارلیمان سے خطاب کی دعوت دی تھی لیکن 2 دن تک انتظار ہوتا رہا مگر وزیراعظم کشمیر گئے ہی نہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ کوئی پاکستانی کشمیر پر سودا برداشت نہیں کرے گا، نالائق وزیراعظم کے غلط فیصلےکی وجہ سےہم کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنےدیں گے،حکومت قومی یکجہتی پیدا کرنے کیلئےکردارادا کرے لہٰذامیں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ حکومت کشمیر کاز کو سنجیدہ لے۔

 

پی پی چیئرمین کا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ وزیرخارجہ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ ان کے بیان سے ہم کتنے دلبرداشتہ ہیں، وزیرخارجہ کوشش سے پہلے ہی ایسے بیان دے رہے ہیں تو  پھر ہم سوال پوچھیں گے کہ آپ کے ارادے کیا ہیں اور کیا آپ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں؟

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے