وزیراعظم عمران خان یوم آزادی کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خصوصی طور پر خطاب میں کہا ہے کہ میں نے پہلی مرتبہ بی جے پی اور مودی کی اصل شکل کو دنیا کے سامنے رکھا، بھارت سے ہمارے سامنے ایک مفادات کی کشمکش نہیں چل رہی بلکہ ہم ایک نظریےکےخلاف کھڑے ہیں اوریہ زیادہ خوفناک ہے،جب آپ ایک نظریے کے خلاف جنگ کریں تو وہ ایک مختلف چیز ہےاور اس کے حل الگ ہیں۔

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ کے سامنے ذمہ داری لیتا ہوں کہ کشمیر کی دنیا میں آواز اٹھانے والا سفیر بنوں گا، ہمیں دنیا کو آگاہ کرنا ہے کہ آر ایس ایس کا نظریہ کیا ہے، دنیا نے نازی ظلم کے بعد بڑے قدم اٹھائے، اقوام متحدہ بنی، دنیا میں جو تباہی مچی تو دنیا نے فیصلہ کیا کہ اب نہیں ہونا چاہیے، دنیا نہیں جانتی یہ جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے یہ اتنا ہی خطرناک ہے، ان کے بیمار ذہنوں میں نفرتیں بھری ہیں، دنیا بھارت کو برداشت والا ملک سمجھتی تھی اور پاکستان کو ہمیشہ دہشگرد کہتے تھے، اب اس نظریے کا سب سے بڑا نقصان بھارت کو ہوگا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے سب سے پہلے بھارتی آئین کو رد کردیا، آرٹیکل 370 ہمارا مسئلہ نہیں تھا یہ ان کا اپنا مسئلہ تھا، یہ لوگ سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف گئے، جموں کشمیر کے ہائیکورٹ کے خلاف گئے، جب ملک میں رول آف لاء ختم ہوتو وہ تباہ ہوجاتا ہے، بھارت میں آج ججز ڈرتے ہیں، انہوں نےمیڈیا پر کنٹرول کرلیا، کوئی مسلمان بات کرتا ہے تو کہتے ہیں پاکستان جاؤ، ہندو بھی ان سے بات کرتے ڈرتے ہیں، بھارت کو یہ بہت بڑی تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے، بھارت ایسے نہیں چل سکتا، وہاں کروڑوں مسلمان ہیں، آپ ان سے ایسے سلوک کریں گے اور ان کے حقوق ختم کریں گے تو اس کا رد عمل آئے گا۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمان خوف میں رہ رہے ہیں، جو کہتے تھے دو قومی نظریہ درست نہیں تھا آج وہی اسے درست کہہ رہے ہیں، کشمیری رہنما انڈیا کے حامی تھے، آج فاروق عبداللہ کہہ رہے ہیں کہ قائداعظم ٹھیک تھے، اب آر ایس ایس کا جن بوتل سے نکل چکا یہ یہاں نہیں رک گا، یہ آگے جائیگا، سکھوں اور دلتوں پر بھی مشکل وقت آئے گا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کا نظریہ نفرت سے بھرا ہے، یہ پاکستان کی طرف آئیگا، ہمیں اطلاعات ہیں اور ہماری فوج کو پتا ہے کہ بھارت نےآزاد کشمیر میں ایکشن لینے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے جس طرح انہوں نے پلواما کے بعد بالاکوٹ میں ایکشن لیا، اب انہوں نے کشمیر سے دنیا کی نظر اٹھانے کے لیے زیادہ خطرناک پروگرام بنایا ہوا ہے، مودی کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ ایکشن لیں آپ کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا، پاک فوج 20 سال سے شہیدوں کی لاشیں اٹھارہی ہے یہ وہ فوج نہیں جس نے ایکشن نہیں دیکھا، صرف ہماری فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم تیار ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ مودی کو کہتا ہوں ہم تیار ہوں گے، جو آپ کریں گے ہم اس کا مقابلہ کریں گے، آخر تک جائیں گے، جو قومی غیرت ہے وہ ہمیں لا اله الا الله دیتا ہے، ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے،جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں ، ایک مسئلہ حل کرنے جائیں تو تین اور کھڑے ہوتے ہیں، مودی کے غلط اندازے ہیں، آپ دیکھیں گے چیزیں کہاں جاتی ہیں، ہم پوری طرح تیار ہیں، ہماری فوج اور قوم ایک پیج پر ہے، فیصلہ کیا ہے کسی قسم کی خلاف ورزی کی، ہماری پوری تیار ہے، یہ جو جنگ ہوگی دنیا کو بتارہے ہیں کہ آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے، وہ بین الاقوامی ادارے ذمہ دار ہوں گے جن کا کام جنگیں روکنا ہے، اب اقوام متحدہ کا ٹرائل ہے۔

 

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ہم نے اقوام متحدہ کو درخواست دے دی ہے اور اب عالمی عدالت انصاف سمیت دنیا کے ہر فورم پر جائیں گے، کشمیری کمیونٹی کو متحرک کریں گے اور لندن میں کشمیر کے لیے تاریخی لوگ نکلیں گے،جنرل اسمبلی میں وہ پبلک نکلے گی جو ان لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، سب سے زیادہ میں اسے پروموٹ کروں گا، ہر فورم پر اٹھاؤں گا، اللہ سے امید رکھتے ہی جو کشمیر میں ہوا اس کے بعد صرف یہ آزادی کی طرف جائیگا۔

 

انہوں نے کہا کہ مودی کو پھر کہتا ہوں کہ بالکل غلط فہمی میں نہ رہیں، آپ نے جو کشمیریوں کے ساتھ کیا ہے، قانون پاس کرکے کیا وہ ہاتھ کھڑے کردیں گے، اب کشمیری بھی تگڑے ہوچکے ہیں، موت کا خوف ان میں سے چلا گیا، جس طرح وہ نکلے ایسے نڈر قوم نکلتی ہے، مودی اس قوم کو غلام نہیں بناسکیں گے،جو آزاد کشمیر پر سوچا ہوا ہے اس کے لیے تیار ہوجائیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، وقت آگیا ہے آپ کو ایک سبق سکھائیں۔

 

انہوں نےکہا کہ ہمارےسامنے آر ایس ایس کا خوفناک نظریہ کھڑا ہے جس کا مودی بچپن سے ممبر ہے،آر ایس ایس نے اپنا نظریہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے لیا، اس نظریے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے،یہ لوگ عیسائیوں سےبھی نفرت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ان پر حکومت کی، آر ایس ایس نے ماضی میں اپنے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ مسلمان حکومت نہ کرتے تو ہم ایک عظیم قوم بننےجارہے تھے۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس نظریےمیں انہوں نےمسلمانوں کی نسل کشی بھی رکھی ہوئی ہے، یہ نظریہ ہم سمجھ جائیں تو بہت چیزیں سمجھ آجائیں گی، قائد اعظم اسی لیے پاکستان کی تحریک پرگئے کیونکہ سمجھ گئے تھےکہ یہ جو آزادی مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لیے نہیں، انہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت دیکھ لی تھی،اس نظریے نےمہاتما گاندھی کوقتل کیا اسی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، مقبوضہ کشمیر پر جو ظلم کیے وہ اسی نظریے کے تحت تھا، مودی نے جو کارڈ کھیلا وہ اس نظریےکا فائنل راوًنڈ تھا،انہوں نے ایک اسٹریٹجک بلنڈر کردیا ہے، یہ مودی اور بی جے پی کو بہت بھاری پڑے گا،

 

انہوں نےمزید کہا کہ مودی نے کشمیر پرجو قدم اٹھایا ہمیں خوف ہے کہ کرفیو اٹھے گا تو کیا کیا پتا چلے گا،وہاں اتنی فوج بھیجنےکی کیا ضرورت تھی، وہاں سے سیاحوں اور ہندوزائرین کو نکال لیا گیا، سب کو خوف ہے یہ کیا کرنے جارہےہیں، انہوں نےمسئلہ کشمیر کو اب بین الاقوامی کردیا ہے، کشمیر پر بات کرنا بہت مشکل تھا، میں نے او آئی سی اور ٹرمپ سے بھی بات کی، لوگوں کو اندازہ نہیں تھا وہاں کیا ہورہا ہے،اب دنیا کی نظرکشمیر پر ہے،اب یہ ہم پر ہےکہ اسے مزید کیسے عالمی دنیا تک لے کر جائیں۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے