بھارت کےمعروف مبلغ ذاکرنائیک نسل پرست بیانات پرملائیشیا میں بھی زیرتفتیش  

 

ملائیشیا کی جانب سےملنے والی اطلاعات کےمطابق ذاکر نائیک  سے ان کے اس متنازع بیان پر تفتیش کی جارہی جس میں انھوں نے کہا کہ ملائیشیا میں ہندوﺅں کوبھارت کی مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں، ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں انہیں نفرت انگیزتقریراورمنی لانڈرنگ کےالزامات کا سامنا ہے۔

 

حال ہی میں انہیں ملائیشیا کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو مقامی نسل جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل ہے کی اکثریت کے خلاف مبینہ طور پر اکسانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بیان کے بعد ملائیشیا کے متعدد وزرائ نے ذاکر نائیک کو ملائیشیا سے بے دخل کرنے کا مطلابہ بھی کردیا ہے۔

 

اس سلسلے میں وزیر داخلہ محی الدین یٰسین نے بتایا کہ پولیس ذاکر نائیک اور متعدد دیگر افراد سے نسل پرستانہ بیان دینے اور ایسی جعلی خبریں پھیلانے کے حوالے سے تفتیش کرے گی جس سے عوامی جذبات متاثر ہوئے، اور اگروہ اپنے جواب سے پولیس کو مطمئن نہین کرسکے تو ممکنہ طور پر انھیں ملائیشیا سے بے دخل کیا جاسکتا ہے۔

 

وزیرداخلہ کا مزیدکہنا تھا کہ ‘میں غیر مسلم شہریوں سمیت ہر ایک کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جو کوئی بھی عوامی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بنے گا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کوئی رعایت نہیں کریں گے۔’ دوسری جانب جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نمائندے سے اس حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے وزیر داخلہ کا بیان پڑھنا چاہیں گے۔

 

خیال رہے کہ ملائیشیا میں نسل اور مذہب ایک حساس معاملہ ہے جہاں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ یعنی 60 فیصد "ملے” قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں جنھیں "بھومی پُترا” زمین کا بیٹا کہا جاتا ہےجبکہ 30 فیصد  آبادی چینی نژاد ملائیشین، بھارتی نژاد تامل ہندو اورسکھوں پر مشتمل ہے جبکہ 10 فیصد میں انڈونیشیئن، فلپائنی، بنگلہ دیشی، پاکستانی سمیت دیگر ممالک کے لوگ شامل ہیں۔

 

ملائیشیا کا سرکاری مذہب اگرچہ اسلام ہے لیکن وہاں تمام قومیتوں اور مذاہب کوان کے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے مین مکمل آزادی حاصل ہے، اسی وجہ عیدین کے تہوار ہوں، رمضان المبارک ہوں، دیوالی، دسہرہ ہو یا چائینز نیو ایئر کے تہوار ملائیشیا میں مکمل جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں تاہم اہل تشیع کو ان کے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کیلئے ملائیشیا میں سعودی طرز پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

 

 

Share This Article

تازه ترین