غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے طالبان سے امن معاہدے کے مسودے کی تیاری کا حکم دیدیا ہےاورممکنہ طورپرمعاہدے کی تیاری کے بعد قطر میں طالبان سے مذاکرات کے اگلے دور میں ان پردستخط کردیئے جائیں گے، اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر غورکیا گیا۔
ملاقات میں امریکی نائب صدر مائیک پینس، وزیر خا رجہ مائیک پومپیو، وزیر دفاع مارک ایسپر، میرین جنرل، چئیرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد شریک تھے،ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کے اعلیٰ مشیروں کی بات چیت بہت اچھی رہی، غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاوس نے طالبان کے ساتھ امن معاہدےکی تیاری کا اشارہ دے دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معاہدے کے مسودے کی تیاری کے بعد زلمےخلیل زاد اسے حتمی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے قطردوبارہ جائیں گےاس سے قبل 12 اگست کو قطرمیں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کےآٹھویں دورکا اختتام ہوا تھا جس میں طالبان اورامریکہ امن کیلئے معاہدہ کرنے پر رضامند ہوئے تاہم اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئی تھیں، لیکن زلمے خلیل زاد نے قطر سے واپسی پر اپنے ٹوئٹ میں مذاکرات کو نہایت خوش آئند قرار دیا تھا

قطر مذاکرات میں طالبان وفد کی سربراہی شیر محمد عباس جبکہ امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد نے نمائندگی کی تھی، مذاکرات کے اختتام کے بعد ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ابتدائی طورپرمعاہدے کیلئے 4 نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
-
طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی غیر ملکی جہادی یا انتہا پسند گروپ کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
-
افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا مکمل انخلاء
-
افغانستان میں موجود تمام طالبان گروپوں کے آپسی مذاکرات اور مفاہمت
-
افغانستان میں دونوں جانب سے مکمل جنگ بندی
رواں برس جون میں مذاکرات کے ساتویں دورمیں بھی امن معاہدے کی بات کی گَئی تھی لیکن معاملات اس وقت ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے تھے جب طالبان نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ فوجوں کے مکمل انخلاء کیلئے کوئی حتمی تاریخ کا اعلان کرے، جبکہ امریکہ کی جانب سے فوجوں کی مکمل واپسی کو افغانستان میں مکمل جنگ بندی اورامن کے پائیدار قیام سے مشروط کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا آٹھواں دور جو 4 اگست سے 12 اگست تک جاری رہا اس میں امریکہ نے طالبان کی اس شرط کو مانتے ہوئے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کیلئے حتمی تاریخ طے کردی ہےتاہم اس کا اعلان نہیں کیا گیا،یاد رہےاس وقت افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 14 ہزار ہے جبکہ نیٹواتحاد میں شامل 39 ممالک کے 17 ہزار فوجی تعینات ہیں، یہ افواج 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر واقعہ کے بعد افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کی بنا پر تعینات کی گئی تھیں اور 18 برس سے ان کا قیام وہیں ہے۔
اگرچہ طالبان اورامریکہ دونوں کی جانب سے مذاکرات کے آخری دور کو سب سے زیادہ کامیاب قرار دیتے ہوئے حتمی معاہدے کی تکمیل کا عندیہ دیا جارہا ہے لیکن تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ فریقین سب سے پہلے اپنی تمام سرگرمیاں معطل کردیتے ہیں لیکن ان تمام مذاکرات کے دوران افغانستان میں طالبان کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا، تنقید نگاروں کے مطابق اگراب امن معاہدہ ہوبھی جاتا ہے تو افغانستان میں طالبان کے دیگر دھڑوں کو اس پر عملدرآمد کیلئے کیسے اور کون راضی کرے گا کیونکہ ہر گروپ کی اپنی ایک منطق اور طریقہ کارہے۔
ایسے میں امن معاہدے کی افادیت کیسے قائم ہوگی اورکیا غیرملکی افواج کی واپسی کے بعد طالبان کے تمام گروپس افغان حکومت کو قبول کرلیں گے یا حکوت کی تبدیلی کیلئے بھی کوئی شرائط رکھی جائیں گی۔۔؟؟ کیونکہ طالبان کے تمام گروپس افغان حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی مانتے ہوئے سخت اختلاف رکھتے ہیں، اسی لیئے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ان حالات میں امن معاہدے پرعملدرآمد کیلئے پاکستان کی اہمیت و کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ غیرملکی افواج کےبعد خطےمیں واحد پاکستان ہی ایسا ہےجوافغانستان میں پائیدارامن کے قیام کو یقینی بنوا سکتا ہے پاکستانی حکومت نےاس سلسلے میں امریکہ کو یقین دہاںی بھی کرائی ہے لیکن مسئلہ کشمیراورپاک بھارت حالیہ کشیدگی کے تناظرمیں ممکنہ طور پر پاکستان کی توجہ اس جانب ہلکی ہوسکتی ہے ایسے میں امریکہ کیلئے ضروری ہوگیا ہےکہ وہ افغانستان سے نکلنے کیلئے پہلے پاک بھارت تنازع کے حل میں اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ افغانستان کے حوالے سے اس کا مسئلہ بھی حل ہوسکے بصورت دیگر امریکہ طالبان امن معاہدہ ایک کاغذ کے پرزے سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔