تقریباً 21 لاکھ بیرل آئل لےجانےوالے ایرانی آئل ٹینکر گریس ون کو 4 جولائی کو ملک شام کی طرف غیرقانونی سفرکےالزام میں برطانیہ نے قبضہ میں لے کر جبرالٹر کی بندرگاہ پر لنگراندز کروادیا تھاجس کے بعد 16 اگست کو جبرالٹر کی عدالت نے ایرانی آئل ٹینکر گریس ون کو چھوڑنے کا حکم جاری کیا، جسے اب امریکہ اپنے قبضے میں لینے کے اقدامات کررہا ہے۔

 

اس حوالے سے واشنگٹن نے دعویٰ کیاہےکہ بین الاقوامی اقتصادی ایمرجنسی ایکٹ، بینک فراڈ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی قوانین کی بنیاد پر وہ ایرانی آئل ٹینکر گریس ون کو قبضے میں لے سکتا ہے،اس کے علاوہ واشنگٹن کی جانب سے ایک اکاؤنٹ سے 9 لاکھ 95 ہزار ڈالر بھی قبضے میں لینے کا حکم دیا گیا ہے، واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ اکاؤنٹ ایک نامعلوم امریکی بینک میں ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کاروبار اور دیگر کارروائیوں سے منسلک ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے گارڈز کو بیرونی دہشت گرد تنظیم کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔

 

جمعرات کو امریکہ کی جانب سے ٹینکر کو حراست میں رکھنے کے آخری مرحلے میں کی جانے والی قانونی کوشش کو جبرالٹر نے مسترد کردیا تھا۔اس سے قبل ایران نے گریس-1 کی حراست کو ‘غیرقانونی رکاوٹ’ کہا تھا۔جبرالٹر کی حکومت نے کہا ہے کہ اسے ایران سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ گریس-1 ‘یورپی یونین کی پابندیوں کے تحت آنے والے’ ممالک یعنی شام کا سفر نہیں کرے گا۔

 

جبکہ برطانوی خطے کے وزیراعلی فیبیئن پیکارڈو نے مزید کہا کہ ہم نے شام میں اسد کی حکومت کو 14 کروڑ ڈالر کی مالیت کے خام تیل سے محروم کر دیا ہے،ایک جج کے ٹینکر کو رہا کرنے کے حکم کے بعد وزیراعلی پیکارڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ جوں ہی لاجسٹکس طے ہو جاتی ہیں جہاز کو چھوڑ دیا جائے گا جو ‘آج بھی عمل میں آسکتا ہے اور کل بھی، لیکن امریکہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے وارنٹ کے بعد نہ تو برطانیہ نے اور نہ ہی جبرالٹر نے کسی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

 

ایران نےجبرالٹرکی جانب سےاپنےآئل ٹینکرکےپکڑے جانےکوغیرقانونی رکاوٹ قراردیا برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گریس ون کے پکڑے جانے کے 2 ہفتے بعد 19 جولائی کو ایران نے برطانوی پرچم بردارجہازاسٹینا امپیروکوآبنائےہرمزسےقبضےمیں لیا،ایران نے دعویٰ کیا کہ برطانوی جہاز نے بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

 

خطےکی سلامتی اورامریکی اتحادیوں کیلئےسنگین خطرہ

دوسری جانب امریکی حکام کے حوالے سےعرب ٹی وی اور دیگر ٹی وی چینلوں کاکہنا ہےکہ تہران یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکا عالمی پانیوں میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے عالمی فوج کی تشکیل کی کوششوں میں سنجیدہ ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایران کے خلاف فوج تشکیل دینا نہیں بلکہ عالمی پانیوں میں جہاز رانی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

 

خیال رہے کہ امریکا نے چند ہفتے قبل عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورس تشکیل دینے کی تجویزیز پیش کی تھی، امریکا نے خطے کے ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے امن فوج کی تیاری میں شامل ہونے کی تیاری کریں۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے