کراچی میں بارشوں کےدوران کرنٹ لگنےسےہلاکتوں کےواقعات پرکےالیکٹرک کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سےجاری اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ کراچی میں بارشوں کے بعد کرنٹ سے ہلاکتیں ہوئیں اور بجلی بھی معطل رہی جس پر کے الیکٹرک کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ بادی النظر میں یہ حقائق نیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہیں،سینئر افسران پر مشتمل ٹیم تحقیقات کے لیے تعینات ہے اور ٹیم 15 دن میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، کراچی میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 35 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے جب کہ کرنٹ لگنے سے کئی علاقوں میں قربانی کے جانور بھی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ شہر میں بارشوں کے دوران کئی علاقوں میں تین روز تک بجلی معطل رہی اور اس دوران کے الیکٹرک کے ہیلپ لائن سینٹر کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
کے الیکٹرک کی نرالی منطق
کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے تقریبا 35 افراد کے جاں بحق ہونے پر ترجمان کے الیکٹرک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات پر بے حد افسوس ہے،لیکن کرنٹ لگنےکےزیادہ تر واقعات گھروں کے اندر پیش آئے،ان واقعات کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کے الیکٹرک نے بجلی کے کھمبوں پر لگے انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی کے خلاف بھی آپریشن کا اعلان کیا،ترجمان نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں پر کیبل اور انٹرنیٹ کی تاریں بڑا خطرہ ہیں، انٹرنیٹ، ٹی وی کیبل و آلات پر 19 اگست سے سخت کارروائی کی جائے گی، ترجمان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں سے کے الیکٹرک تنصیبات کے گرد تجاوزات ختم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

مقدمات کے اندراج میں مشکلات
بارشوں میں کرنٹ سے ہونے والی اموات پر ابتداء میں سندھ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ہم خود کے الیکٹرک کے خلاف مقدمات درج کروائیں گے، لیکن صرف 24 گھنٹوں میں ہی حکومت سندھ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی بعد میں کہا گیا کہ مرنے والے کے اہل خانہ مقدمہ درج کروا سکتے ہیں، لیکن جب بھی کوئی مقدمہ درج کروانے جاتا اسے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں گھنٹوں بٹھا کر رکھا جاتا ہے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح مدعی ایف آئی آر کے اندراج سے باز آجائے۔
ڈیفنس کے علاقے میں دو بھائیوں اور ان کے ایک دوست کی کرنٹ سے اموات پر میئر کراچی جب درخشاں تھانے مقدمے کے اندراج کیلئے گئے تو انھیں 6 گھنٹے تک پولیس حکام سے مذاکرات کرنے پڑے جب مقدمہ درج ہوا، عوام حیران و پریشان ہیں کہ کے الیکٹرک نے حکومتی ایوانوں میں کس طرح اپنے قدم جما رکھے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا، ایسی صورت مین اگر نام نہاد مقدمہ درج بھی ہوجائے تو کون بجلی کمپنی کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے، اور کیا کے الیکٹرک کے خلاف ہونے والے اقدامات میں سنجیدگی بھی ہوسکتی ہے۔
کے الیکٹرک پر الزامات
جہاں کے الیکٹرک کی من مانیوں کی فہرست طویل ہے وہیں ان پر لگائے جانے والے الزامات بحی بہت زیادہ اور نہایت سنگین نوعیت کے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ ان تمام الزامات اور کمپنی کی کوتاہیوں پر وفاقی ہو یا صوبائی حکومتیں اب تک کوئی کارروائی نہیں کرسکی ہیں۔

- کے الیکٹرک پر سب سے پہلا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے وعدے کے تحت نہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کی اب تک کوشش کی اور نہ ہی شہر میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جاسکا ہے، شہر میں 4 سے 6 گھنٹوں کی یومیہ لوڈ یڈنگ معمول کی بات ہے جبکہ فیڈر ٹرپ کرنے، پی ایم ٹی جل جانے، تار ٹوٹنے سمیت دیگر خرابیوں سے بجلی کی معطلی الگ ہے۔
- ایک شکایت یہ ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے لگائے جانے والے بجلی کے میٹر ممول کی رفتار سے دوگنے تیز ہیں جس کی وجہ سے بجلی کے زیادہ یونٹ بنتے ہیں اور ایک صارف بجلی کے کم از کم استعمال کے باوجود زائد یونٹوں کے عیوض بل دینے پر مجبور ہے۔
- کمپنی پر الزام ہے کہ اگر اس نے غلطی سے کسی صارف کو زیادہ بل بھیج دیا جو کہ اکثر ہوتا ہے تو اس زائد اور گیر قانونی بل مین کمی نہین کی جاتی سب سے پہلے تو صارف کو بجلی دفتر کے کئی چکر لگوائے جاتے ہیں اور انسپکشن، انکوائری کے نام پر اسے رلایا جاتا ہے آخر مین کئی ماہ بعد اس زائد بل کی قسطیں کرکے کہا جاتا ہے کہ بل تو بھرنا ہوگا ورنہ بجلی کاٹ دی جائے گی۔
- کے الیکٹرک پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اس نے شہر میں بجلی کی ترسیل کیلئے لگے ہوئے اربوں روپے کے تانبے کے تار اتار کر ان کی جگہ سلور کے تر لگادیئے ہیں جو لوڈ برداشت کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے اور بجلی کا اتعمال بھی ان سے زیادہ ہوتا ہے کے الیکٹرک آج تک یہ وجہ نہین بتا سکی کہ تانبے کے تاروں کی جگہ سلور تار کیوں لگائے گئے۔۔؟؟
- حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات کا بڑا سبب بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آجانا تھا کیونکہ شہر میں کسی بھی کھمبے پر ارتھنگ وائر نہیں لگایا گیا جس کی وجہ سے بجلی بجائے زمین کے اندر جانے کے کھمبے میں ہی رہتی ہے اور اس سے ٹکرانے والا اپنی جان سے جاتا ہے۔
کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا

ماہرین اوراہالیان کراچی کا کہنا ہے کہ اتنے الزامات کےباوجود کےالیکٹرک کا کبھی کوئی کچھ بھی بگاڑ نہین سکا ہے حالیہ اموات کے بعد کچھ مقدمات کے اندراج سے بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے اگر حکومت چاہے تو کے الیکٹرک کے خلاف الزامات اور ان کی کوتاہیوں کی ایک طویل داستان ہے اور ان پر لگایا گیا ہر الزام از خود ایک سنگین جرم اور کے الیکٹرک کیلئے قابل گرفت ہے، ایسے میں نیپرا یا متعلقہ حکام کی تحقیقات اور نام نہاد رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں جب بڑے الزامات کی جانب توجہ ہی نہِیں دی جاتی۔