کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اورٹی وی نشریات بدستور بند ہیں جب کہ حریت رہنما اور سیاسی رہنما بھی گھروں یا جیلوں میں بند ہیں،کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باعث وادی میں دواؤں اور کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے۔
کرفیوکے باوجود سری نگر سمیت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق مقبوضہ وادی کے مخصوص علاقوں میں اسکول کھلنے کے باوجودخالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بچوں کو اسکول بھیجنے سے انکار کردیا، بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے، کشمیری شہریوں نے بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاج کیا لیکن قابض بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی کشمیری شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں
بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا،بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی دستے تعینات کردیے تھے کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ کشمیری اس اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔