چین کا بھارتی اقدام پر ایک بار پھر واضح مؤقف

چین کا بھارتی اقدام پر مؤقف

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں ایک بار پھر کہا ہے کہ چین کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ‘شدید تشویش’ ہے، چین نے سرحدی علاقے میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

 

اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کا ہنگامی دورہ کر کے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایک ملاقات بھی کی تھی۔ قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ نے پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے میں مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

 

شاہ محمود قریشی کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا اور چین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ نئی دہلی کے مطابق اس دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی پر بات چیت کی گئی تھی۔ تاہم چین نے بھارتی وزیر خارجہ سے بھی اپنی تشویش کا برملا اظہار کیا تھا۔

 

 

 

 مسئلہ کشمیر پر چین واحد دوست ملک ہے جس نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک کے طور پر پاکستانی درخواست کی حمایت کی اور ممکنہ طور چینی حمایت ہی کے باعث سلامتی کونسل میں قریب نصف صدی کے بعد تنازعہ کشمیر ایک مرتبہ پھر زیر بحث آیا، چین نے بھارت کے لداخ اور جموں و کشمیر کو یونین علاقہ بنانے کے بھارتی فیصلے کو چین کی علاقائی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین