امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکہ دوحہ میں بقیہ تمام معاملات کے تصفیے کیلئے تیار ہے، مذاکرات کا آئندہ دور امن کے قیام کیلئے حتمی اور آخری ہوسکتا ہے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امن عمل کی کامیابی سے افغان عوام داعش کو شکست دینے کی مزید مضبوط پوزیشن میں آجائیں گے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نومبر 2020 میں امریکی انتخابات سے پہلے افغانستان سے 13 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی واپسی پر زور دے رہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ دوحا مذاکرات کے نئے دور میں امریکی انخلا کا وقت طے کرنے کے بدلے تشدد میں کمی اور داعش یا القاعدہ کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے طالبان کے وعدے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں اور اب جلد ہی قطر میں مذاکرات کا نیا دور ہوگا جس میں معاہدے پر دستخط کے امکانات ہیں۔ 4 نکاتی ابتدائی معاہدے کے اہم نکات میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلاء اور طالبان کی جانب سے مکمل جنگ بندی شامل ہیں۔