اب مذاکرات نہیں ہوں گے، عمران خان

 

 

وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت سے جب بھی مذاکرات کی کوشش کی اس نے سمجھا کہ ہم کمزور ہیں، اب بات چیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، پاکستان کی امن مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری سمجھا، بھارت  پاکستان پر حملے کا بہانہ تراشے گا لیکن اگر  حملہ ہوا تو پاکستان بھرپورجواب دینے پرمجبور ہوگا، دنیا یہ سمجھ لے کہ  2 جوہری قوتوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

 

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 80 لاکھ افراد کی زندگی داؤ پرلگی ہوئی ہے، ہمیں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ہے، مقبوضہ کشمیرمیں مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندوؤں کو آباد کرنے کی سازش کی جارہی ہےاس موقع پر وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے امن فوج اور مبصرین بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا۔

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے بھارت، پاکستان کے خلاف جنگ کے بہانے ڈھونڈے گا، اگرحملہ ہوا تو پاکستان بھارت کو بھرپورجواب دینے پرمجبور ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ 2 جوہری قوتوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس وقت جونازک صورت حال ہے وہ دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

 

اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے 14 اگست کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں سفیربن کر کشمیر کی آواز دنیا میں اٹھاؤں گا، وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کے حق خود رائے دہی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ساری دنیا میں پیغام جائے گا کہ جہاں کمزور اور طاقت ور کی لڑائی ہو وہاں طاقتور کی حمایت کی جاتی ہے۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین