اقوام متحدہ کشمیر میں جاری مسلم نسل کُشی روکنے کے اقدامات کرے، جینو سائیڈ واچ الرٹ  

 

 

امریکا کی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی سے متعلق الرٹ جاری کردیا، جینوسائیڈ واچ کے جاری کردہ الرٹ میں بھارتیا جنتا پارٹی کا ہندوتوا نظریہ، بھارتی جابرانہ فوجی آمریت، مواصلات کے ذرائع منقطع کرنا، بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی شامل ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پرجھوٹ پھیلایا گیا، مسلمانوں کو دہشت گرد، علیحدگی پسند، باغی کا نام دیا جاتا ہے، بنیادی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پرخلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔

 

 جینوسائیڈ واچ نے الرٹ میں کشمیریوں کی متوقع نسل کشی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو کشمیر میں نسلی کشی سے روکیں، الرٹ میں بیان کیا گیا کہ بھارتی قابض فوجیوں نے 1979 سے 2006 تک 50 ہزار کشمیری مارے جب کہ 2016 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

 

شاہ محمود قریشی کا ردعمل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جینوسائیڈ واچ کے جاری کردہ الرٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جینوسائیڈ واچ نے الرٹ بہت سوچ سمجھ کر جاری کیا ہے،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال بہت بگڑ چکی ہے وہاں کے لوگ مجبور حالات اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عوامی مزاحمت کی کال کو ناکام بنانے کے لیے قتل عام کے منصوبے بنا رہا ہے، وہ قتل عام کی جانب بڑھ رہا ہے اسے روکنا ہوگا۔

 

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوئیڈش ہم منصب مارگوٹ وال سٹروم کو مطلع کیا کہ بھارت کے اقدامات نے پورےجنوبی ایشیا کو خطرات سےدوچار کر دیا،انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو کی وجہ سے زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں، لاک ڈاؤن سے ادویات، خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، بھارت کااقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے.

 

وزیر خارجہ نے ڈنمارک اور ناروے کے وزرائے خارجہ سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے، جنوبی ایشیا میں ایک نیا انسانی المیہ جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے، عالمی دنیا اس معاملے کا نوٹس لے۔

 

 

Share This Article

تازه ترین