اس سلسلے میں امریکی میڈیا کا فعال کردار سامنے آنا شروع ہوگیا ہےامریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پول کھول دیا اور اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ بھارت کا دعویٰ ہے کشمیر میں سب صحیح ہے لیکن اب بھی ہزاروں کشمیری پابند سلاسل ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارےکےمطابق امریکی جریدے نیوریارک ٹائمزنےمقبوضہ کشمیرپراپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ بھارتی فوجی کشمیرکی سڑکوں پر شہریوں کو پیلیٹ گنز، آنسوگیس سےنشانہ بنارہے ہیں، بھارتی حکام کا اپنا دعویٰ ہے کہ 2 ہزارکشمیریوں کوحراست میں لیا ہے،امریکی اخبارنےرپورٹ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گرفتار افراد میں انسانی حقوق کے نمائندے، اساتذہ اور طلبا بھی شامل ہیں،بھارتی حکام نےتسلیم کیا کہ گرفتارافراد میں 14 سال کےبچےبھی شامل ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کشمیریوں کی گرفتاریاں آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے اور بعد میں کی گئیں،مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پرآج بھی بھارتی فوجی دندناتےپھررہے ہیں،امریکی اخبار کا کہنا ہےکہ بھارتی حکام بتانےکوتیارنہیں کہ اتنی بڑی گرفتاریوں کی وجہ کیا ہے،بعض کشمیریوں کو ایئرفورس کے ذریعے لکھنو، آگرہ کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے، گرفتار کشمیریوں کو خفیہ طور پر بنارس جیل منتقل کی جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو جھکانا ہندو انتہا پسندوں کا پرانا خواب ہے، مقبوضہ کشمیر بھارت کی واحد مسلم اکثریت آبادی ہے، کشمیریوں کی بھارت کے خلاف جدوجہد دیہائیوں سے جاری ہے،امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وادی میں ’کشمیر کا حل صرف بندوق‘ کے نعروں کی گونج ہے، کشمیر کی سرحد کے دونوں پار صورت حال خطرناک ہے،نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، دونوں ایٹمی ممالک کو امریکی صدر ٹرمپ نے تناؤ کم کرنے پر زور دیا ہے۔
سابق امریکی سفیر کا بیان
دوسری جانب سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیر پر قبضہ کرلیا ہےسابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکا افغان طالبان کے ساتھ مصروف ہے، بھارت نے امریکا کی مصروفیت کا فائدہ کشمیر میں اٹھایا،انہوں نے کہا بھارت نے فیصلے کے لیے وقت کا انتخاب سوچ سمجھ کر لیا، مودی نے خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیر پرقبضہ کرلیا۔
این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستانی عوام، لیڈروں لیے جذباتی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی امریکی صدور نے بھارتی مرضی کے خلاف قدم اٹھانے سے گریز کیا۔