آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بھارت سے سوال پوچھا گیا ہے کہ قومی بجٹ میں میں ٹیکسوں اور جی ایس ٹی ٹیکسز کے حوالے سے جو اہداف مقرر کیے گئے وہ تاحال کیوں حاصل نہیں ہوئے۔۔؟؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یکم اپریل سے 15 اگست کے درمیان براہ راست ٹیکس ریونیو میں بہت زیادہ کمی ہوئی اور وصولی کی شرح کم ہو کر 4.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں ٹیکس وصولی کی شرح 9.6 فیصد تھی اس طرح تیسرے سہ ماہی میں مطلوبہ شرح 17.3 فیصد کم رہی جسے اور بھی بڑھایا جانا چاہیے، یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی معیشت میں سست روی کے باعث لاکھوں افراد کا روزگار ختم ہوگیا، حکومتی اداروں معاشی ماہرین کے بعد اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی گرتی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا، آئی ایم ایف نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بلواسطہ ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لائے اور جی ایس ٹی کی راہ میں حائل رکاوٹو کو دور کرے اگر ایسا نہ ہوسکا تو شدید دھچکا پڑ سکتا ہے۔

بھارت کی خراب اقتصادی صورتحال کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا تقریباً 7 ماہ سے فیول کی مد میں اپنے واجبات ادا نہیں کر سکی اور واجب الادا رقم ساڑھے 4 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے،اس صورت حال میں ایئر انڈیا کو فیول فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اُسے 6 ائیر پورٹس پر جیٹ فیول کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا ہے،بھارتی ویب سائٹ کے مطابق مجموعی طور پر اس وقت ایئر انڈیا پر 58 ہزار کروڑ روپے کا قرضہ ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورت حال سے بھارتی معیشت پر بھی برے اثرات پڑے ہیں مودی سرکار کے پالیسی تھنک ٹینک کے مطابق بھارت کو جس اقتصادی سست روی کا سامنا ہے اس کی مثال پچھلے 70 سال میں نہیں ملتی۔بھارتی حکومت کے پالیسی تھنک ٹینک نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا کے وائس چیئرمین راجیو کمار کا کہنا ہے کہ پورا مالیاتی شعبہ خراب صورت حال سے دو چار ہے اور کوئی بھی کسی پر اعتماد نہیں کر رہا۔

اُدھر امریکا کے آزاد مالیاتی ادارے جیفریز کے ایکویٹی اسٹریٹجیز شعبے کے گلوبل ہیڈ اورمعروف تجزیہ کار کرس ووڈ نے بھی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر بھارت کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہونےکی پیش گوئی کردی، کرس ووڈ نے اپنے نیوز لیٹر گریڈ اینڈ فیئر Greed and Fear میں انہوں نے بھارت کے ایسیٹ ایلوکیشن پورٹ فولیو میں ایک فیصد کی کمی کی ہے جو اب 16 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال نے بھی بھارتی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے