متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیئے جانے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یواے ای کا دورہ منسوخ کر دیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پارلیمانی وفد کے ہمراہ چار روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ شب یو اے ای کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن یو اے ای کی حکومت کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیئے کے بعد یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپورحمایت کرتا ہے۔ اورمودی حکومت کی جانب سے اس وقت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی گئی ہے اور کرفیو نافذ ہے۔ لہذا ایسے موقع پر متحدہ عرب امارات کا دورہ پاکستانی قوم اور کشمیری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی دل آزاری کا سبب بنے گا۔’
سینیٹ کے ترجمان رمضان ساجد کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو دیے گئے ایوارڈ کے بعد چیئرمین سینٹ نے بطورِ احتجاج اپنا اور پارلیمانی وفد کا طے شدہ دورہ منسوخ کیا ہے۔
اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کشمیری بہن بھائی محصور ہوں اور میں یو اے ای کا دورہ کروں،انہوں نے بتایا کہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور تین بجے ہماری پرواز تھی لیکن مودی کو ایوارڈ ملنے کے بعد ہی یو اے ای جانا اور حکام سے ملنا مناسب نہیں تھا، کشمیری بھائیوں سےاظہاریکجہتی کیلئے احتجاجاً دورہ منسوخ کیا،صادق سنجرانی نے کہا کہ مودی کشمیریوں پرمظالم ڈھائے اور اسے ایوارڈ دیا جائے اس پر دکھ ہوا،انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں ملوث ہے اور اپنے فیصلے سے یو اے ای کے سفیر کو آگاہ کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک روز قبل ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا ہے۔ اور انھیں بہترین رہنما اور عرب امارات کا دوست قرار دیا ہے، یو اے ای بھارت میں 75 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کررہا ہے، جبکہ بھارتی باشندوں کیلئے امارات کے ویزوں میں بھی خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔