ایرانی وزیر خارجہ کی جی سیون اجلاس میں سرپرائز شرکت  

 

ایرانی وزیر خارجہ اتوار کوفرانس کے شہر بیارٹز میں ہونے والے جی سیون ممالک کے اجلاس میں میں اچانک شرکت کرنے پہنچ گئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق جواد ظریف نے دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ سائیڈ لائن پر ملاقاتیں کی ہیں، فرانس میں جی سیون ممالک کا اجلاس جاری ہے اورامریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ ایران سے بات چیت فرانس کے صدر کے ذریعے ہوگی۔

فرانس میں جاری جی سیون اجلاس مین اس کے ساتوں رکن ممالک امریکہ، فرانس، کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور جرمنی شریک ہیں، اجلاس کا ایجنڈا،عالمی تجارت،ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایران نیوکلیئر معاہدے سمیت دیگر اہم امور شامل ہیں، اجلاس میں اگرچہ رکن ممالک کے علاوہ کوئی شرکت نہیں کرسکتا لیکن دنیا کی 7 بڑی طاقتوں کے سربراہان کے ایک جگہ جمع ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثرممالک کے سربراہان یا وزرائے خارجہ کی خواہش پر اجلاس سے پہلے یا بعد میں سائیڈ لائن ملاقاتوں کیلئے انھیں مدعو کرلیا جاتا ہے۔

جی سیون سائیڈ لائن ملاقاتوں کے حوالے سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ ان کی فرانسیسی ہم منصب اور صدر سے کافی تعمیری گفتگو ہوئی، جواد ظریف  کا کہنا ہے کہ  "آگے کا راستہ مشکل ہے لیکن کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں”۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کی تقریبا ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے ممکنہ حالات پر گفتگو کی گئی،اس کے علاوہ جواد ظریف فرانسیسی صدر میکرون کی بریفنگ کے دوران بھی موجود رہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کی اچانک شرکت کے حوالے سے وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے جواد ظریف کو جی سیون ممالک کی سائیڈ لائن پر ملاقاتوں کی دعوت ان کے لیے حیران کن تھی۔وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہےکہ ایرانی وزیر خارجہ نے بیارٹز سے واپسی پر کسی امریکی حکام سے ملاقات نہیں کی۔

ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی معاہدے کے خاتمے کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جب کہ یورپی رہنما دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس ضمن میں ایران کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے میں فقط امریکہ فریق نہِن بلکہ یورپی ممالک خاص کر فرانس اس معاہدے کے تحفظ میں اپنا بہترین کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران سے معاملات پر بات چیت فرانس کے ذریعے ہی ہوگی، اس صورتحال میں امید کی جارہی ہے کہ امریکہ ایران کشیدگی ختم کرنے کیلئے جی سیون سائیڈ لائن ملاقاتیں مثبت پیش رفت ثابت ہوگی۔

 

Share This Article

تازه ترین