دنیا کی 7 بڑی معیشت والے ممالک پر مشتمل تنظیم جی سیون کا اجلاس خارجہ امور اورتحفظ ماحول جیسےموضوعات پر مشاورت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا،جنوبی فرانس میں ہوئے اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلاف رائےکی وجہ سے کوئی اختتامی اعلامیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس تنظیم کی 44 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی جانب سے کوئی متفقہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس اجلاس کے حاشیے پر جرمنی اور فرانس نے افریقی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات میں ساحل کے علاقے میں سلامتی کے اپنے منصوبوں کو وسعت دینے کا اعلان بھی کیا۔

اجلاس شروع ہونے سے کچھ روز قبل ہی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ جی سیون اجلاس میں شريک اکثر رہنماؤں کی بظاہر اپنی اپنی محدود ترجیحات اور خواہشات ہیں اور وسیع تر اجتماعی سوچ کا فقدان نظر آتا ہے، اس لحاظ سے کوئی متفقہ فیصلہ ہونے کا امکان نہِیں ہے،ناقدین کے مطابق جی سیون ممالک کےآپس میں اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ اجلاس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری ہوناممکن ہی نہیں تھا اور یہ اجلاس صرف خانہ پری کیلئے ہی تھا گذشتہ سال بھی کینیڈامیں منعقدہ اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسوں پر تنقید کے بعد انہوں نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس باربرطانوی وزیراعظم بورس جانسن بریگزٹ کےمعاملے پرفرانس اورجرمنی سے اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے لیکن دونوں ملک کےخیال میں اگربرطانیہ ہرصورت اکتوبر کے اختتام تک یورپی یونین سے نکلنا چاہتا ہےتو اسکی اُسےسیاسی اورمعاشی قیمت ادا کرنی ہوگی،اجلاس سے پہلے یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک اور برطانوی وزیراعظم نے ایک دوسرے کو برطانیہ کے مسائل کا ذمہ داربھی قراردیا تھا۔

اسی طرح میزبان فرانس چاہتا تھاکہ اس اجلاس میں عالمی ماحول کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کرنے پر بات ہو،لیکن امریکی صدرٹرمپ کی ماحولیات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں اورنہ ہی وہ ماحول کےتحفظ کےحوالےسے ایسےکوئی اقدامات کرنےکے حق میں ہیں جس سے امریکا کے طاقتور کاروباری حلقے ناراض ہوں، اس تناظرمیں جی سیون اجلاس کا بے نتیجہ ختم ہوجانا کوئی حیرت کی بات نہیں سمجھی جارہی ہے۔

دنیا میں معاشی لحاظ سےسب سےآگےسمجھے جانے والے7 ملکوں کےگروپ ‘جی۔سیون‘ کا اجلاس ہفتے کے روز فرانس میں شروع ہواتھا لیکن اجلاس سے پہلے ہی چین، امریکا تجارتی لڑائی، ایمزان کےجنگلات میں آگ کے معاملے پر برازیل،فرانس الزام تراشی نےسربراہی اجلاس کا ماحول کشیدہ کردیاتھا۔

حالیہ دنوں میں چین اور امریکا نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر اربوں ڈالر کی نئی محصولات یا ڈیوٹی لگانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ لڑائی اب باقی ملکوں پر اثر انداز ہو رہی ہےاورخدشہ ہےکہ اس صورتحال سےعالمی معیشت کساد بازاری کی طرف جاسکتی ہے۔ جی7 ملکوں میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں،یہ سات ممالک مل کر دنیا کی 40 فیصد مجموعی قومی پيداوار کے ذمہ دار ہیں،اس تنظیم کے اہم مقاصد میں انسانی حقوق، جمہوریت، خوشحالی اور پائیدار ترقی کا فروغ شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں جی۔سیون ممالک کی توجہ کا خاص مرکز توانائی پالیسی، ماحولیات کا چیلنج، ایچ آئی وی ایڈز اور سکیورٹی جیسے معاملات رہے ہیں۔

یہ تنظیم 2014 تک جی۔ایٹ کہلاتی تھی لیکن پھر سابقہ يوکرائنی علاقے کريميا پر روس کے قبضے کے بعد، روس کی رکنیت معطل کر دی گئی جس کے بعد سے یہ عالمی تنظیم جی۔سیون بن گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں جی۔سیون ممالک کو  چاہیے کہ روس کو اب واپس تنظیم کا رکن بنائیں،چین بھی اس تنظیم کا حصہ نہیں۔ گو کہ چین کا شمار دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ہوتا ہے لیکن آبادی کے حساب سے دیکھا جائے تو اس کی دولت کم آبادی والے ترقی یافتہ ملکوں سے پیچھے ہو جاتی ہے۔ لیکن چونکہ چین نے خود کو عالمی سطح پر ایک بڑے اہم کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے اس لیے وہ دیگر عالمی تنظیموں کے ساتھ ساتھ جی۔ٹوئنٹی ممالک کا اہم رکن ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے