فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے آخری روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ‘بڑی پیش رفت‘ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ فرانس کے جنوبی شہر بیارٹس میں جرمن چانسلر کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”یہ ایک بہت بڑا قدم ہے۔ ہم اب ایسے ماحول میں ہیں، جہاں مذاکرات کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ یہ سب کچھ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی سے ہوا ہے، جو کہ بہت بڑی بات ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رضامندی کے بعد ہی ایرانی وزیر خارجہ گزشتہ روز ایک ہنگامی دورے پر فرانس پہنچے تھے اور وہ تہران حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ان کی ایران مخالف سخت پالیسی میں نرمی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اتوار کو ایک اچانک دورے پر فرانس پہنچ گئے تھے، جہاں انہوں نے فرانسیسی صدر کے علاوہ کئی دیگر یورپی سفارت کاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات نہیں ہوئی کیوں کہ فی الحال یہ مذاکرات کے سلسلے میں بہت ہی ابتدائی مرحلہ ہے۔ صدر ٹرمپ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ماکروں جو بھی کر رہے تھے، مجھے اس کا علم تھا۔ میں نے ہی یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دی تھی۔‘‘ یاد رہے کہ ابھی اگست میں ہی صدر ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کر رہے اور جولائی کے اواخر میں وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے جواد ظریف کے خلاف پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کے ہنگامی دورے کے حوالے سے صدر حسن روحانی نے کہا ہے، ”میرے خیال میں ہمیں اپنے ملکی مفاد کے لیے ہر ایک آلہ استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ لیکن ایرانی اخبارات نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دائیں بازو کے ایرانی اخبار کہیان نے لکھا ہے کہ ‘جواد ظریف کا دورہ نا مناسب تھا اور اس سے کمزوری اور مایوسی کا پیغام گیا ہے۔‘‘

جی سیون دنیا کی سات بڑی معیشتوں کا گروپ ہے، جس میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے