کراچی اوراہالیان شہرسےمذاق کیوں کیا جارہا ہے۔۔۔؟؟  

 

شہر میں 31 جولائی اور پھر 9 اگست کی بارشوں نے شہر کو تو جل تھل کیا ہی تھا لیکن بلدیاتی اداروں کی کارکردگی نے اس شہر کو آسیب زدہ بنادیا،جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، سیوریج اوربارش کا جمع شدہ گندہ پانی توشہریوں کیلئےعذاب بنا ہی ہواتھا کہ عید الاضحیٰ پر قربانی کےجانوروں کی آلائشوں اورگندگی سے پیدا ہونےوالےتعفن اورمکھیوں نےتو شہریوں کو جیسے کچرا کنڈی پرہی بٹھادیا ہو۔

پھرایک وفاقی وزیرنےشہرکوصاف کرنےکا زوروشورسےاعلان کیا، کچھ کام بھی ہوا لیکن اونٹ میں زیرے کےبرابر، اسی دوران سندھ حکومت کی جانب سےسوائے بیانات داغنے کےشہرکیلئےکوئی ٹھوس کام نہیں کیا جاسکا،جبکہ میئر کراچی کا وہی رونا کہ نہ اختیارات ہیں نہ فنڈز،شہرمیں کام کریں توکیسےکریں،اورپھرموقع ملاسابق ناظم شہراورموجودہ پاک سرزمین پارٹی کےچیئرمین مصطفیٰ کما ل کو کہ وہ اس شہرمیں کچرے پرہونےوالی سیاست میں اپنا حصہ بھی ڈال سکیں۔

مصطفیٰ کمال نے کچھ روز قبل اپنی ایک پریس کانفرنس میں پہلےمیئرکراچی وسیم اختراوران کی اہلیہ کو نشان ہدف بنایا اورنازیبا الفاظ استعمال کیئے یہ اسی قسم کا لب و لہجہ تھا جو گورنر سندھ عشرت العباد کیلئے کچھ سال پہلے استعمال کیا گیا تھا جس کے بعد انھیں استعفیٰ دینا پڑا تھا اس دفعہ بھی شاید کمال صاحب کا مقصد یہی تھابعد میں میڈیا ٹاک کےدوران انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر انھیں ذمہ داری دی جائے تو وہ ان ہی اختیارات اور اتنے ہی وسائل میں شہر کراچی کو 90 روز میں نہ صرف صاف کرکے دکھاسکتے ہیں بلکہ ایک مستقل پلان بھی دیں گے کہ شہر کیسے صاف رکھا جائے۔

مصطفیٰ کمال کےچیلنج اورجواب چیلنج کا آگےچل کرتذکرہ ہوگا اس سے قبل ایک حقیقیت سے اہالیان کراچی کو آگاہ کرنا ضروری ہے 17 اکتوبر 2005 سے فروری 2010 تک شہر کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مصطفیٰ کمال کو اس زمانے میں اپنی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ اور صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف کی جتنی حمایت اورجتنےفنڈزدستیاب تھے مصطفیٰ کمال نے اس کے مقابلے میں شہر میں 25 فیصد بھی کام نہیں کیا، لوگ اس بات پر حیران ہوں گے لیکن اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ شہر میں سب سے زیادہ پانی کی لائنوں، اور سیوریج کے نظام پررقم خرچ کی گئی سڑکیں، فلائی اوورز اور انڈر پاسسز بنائے گئے جنھیں پہلی نظر میں دیکھ کریہی کہا جاسکتا ہے کہ واہ کیا کام کیا ہے۔

لیکن ایسا ہے نہیں کیوں کہ سڑکیں بنائی گئی لیکن ان کو ڈسپوزل اور رین واٹر سسٹم کے تحت نہیں بنایا گیا، سیوریج لائنوں کیلئے کراچی جیسے میگا سٹی کے لحاظ سے پلاننگ نہیں کی گئی اور پانی کی لائنوں کی تو بات ہی نہ پوچھی جائے، نتیجہ یہ کہ ان کے جانے کے دو تین سال بعد ہی شہر کا نقشہ بگڑنےلگا، بارش اور سیوریج کا پانی جو سڑکوں کیلئے زہرقاتل ہوتا ہےاس نے پورے نظام کی قلعی کھول دی، شہر میں صفائی کیلئے جو مشینیں منگوائی گئی تھیں وہ بھی ایک مذاق ہی ثابت ہوئیں جو کچرےکوگول گول گھما کرسڑک کنارےکردیتیں اورکچھ دیربعد تیزہوا سےوہی کچرا اورمٹی سڑکوں پر بکھرجاتا، شہرمیں شجرکاری کے نام پر جو پودے لگائے گئے وہ ماحولیات کیلئے ویسے ہی ناپسندیدہ ثابت ہوچکے ہیں۔

اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مصطفیٰ کمال کے بطور ناظم کام شاندارتھےتوانھیں چاہیئے کہ دنیا کے دیگر شہروں میں ہونے والے تعمیراتی اورترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں حقیقت سامنے آجائے گی، اور جیسا کہ پہلے ذکر ہوا جتنے اختیارات، اورفنڈزمصطفیٰ کمال کو پورے 5 سال تک حاصل رہے اتنے میں تو شہرکراچی پیرس کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہوتا، یہاں ہم باغ قاسم کی بھی مثال نہیں دیں گے۔

اس موقع پر سابق صدر پرویز مشرف کا وہ جملہ بیان کرتے چلیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ "کراچی کیلئےمیری مکمل سپورٹ تھی لیکن جیسا کام ہونا چاہیئَ تھا ویسا ہوا نہیں”۔

 بات ہورہی تھی مصطفیٰ کمال کے چیلنج کی جسے میئر کراچی نے نادانی کہیں یا حد سے زیادہ خود اعتمادی کہ انھوں نےفوراًمصطفیٰ کمال کیلئےایک نوٹیفیکیشن بھی نکال دیا اور انھیں 90 دن کیلئے شہر کے گاربیج کی صفائی کا مکمل اختیارسونپ دیا،چینلج قبول ہوا اور کمال صاحب کیلئے ایک  چیلنج شروع ہوگیاجس پرمصطفیٰ کمال نے فوراً ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے شہرکےتمام بلدیاتی چیئرمینوں کوکام چھوڑنے اوردیگرافسران کو لائن حاضرکرنےکے احکامات جاری کردیئےانھوں نےمیئرکراچی کےفیصلے کو تو بخوشی قبول کیا لیکن اس کے بعد جو شرائط یا انداز اختیارکیا اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کام اب بھی نہیں ہونا تو چلوایسے ہی صحیح۔

اُدھر مصطفیٰ کمال کے چیلنج، جواب چیلنج و قبولیت کی پریس کانفرنس ابھی ختم بھی نہِیں ہوئی تھی کہ سابق وزیر بلدیات اورموجودہ وزیراطلاعات سندھ سعید غنی کا بیان آگیا کہ میئر کراچی کو یہ اختیار ہی نہِیں کہ وہ کسی سینئرعہدے پرعارضی ہی صحیح کسی کی بھی تعیناتی کرسکیں اس کیلئے انھیں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے رجورع کرنا چاہیئے تھا مصطفیٰ کمال کی تقرری غیرقانونی ہے۔

اس تمام صورتحال سے کیا اہالیان شہر کو یہ نہیں لگتا کہ اس شہر اور اس کے لوگوں سے گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے۔۔۔؟؟ سب کچھ سیاست کی نظر ہورہا ہے، صوبائی حکومت ہو یا میئرکراچی، وفاقی وزیر ہوں یا مصطفیٰ کمال شہرکےساتھ کوئی مخلص نظرنہیں آتا سب یہی چاہتے ہیں کہ انھیں سب کچھ مل جائے اورباقی سب آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں، کام میں سنجیدگی کس کی نظر آتی ہے یہ فیصلہ تو خود شہرکراچی کے باسیوں کو کرنا ہوگا لیکن یہ طے ہے کہ جو عمل اور طرز عمل چل رہا ہے شہر کے مسائل ایسے کہیں بھی حل نہیں ہوتے۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین