ایمان کا سب سے کمزور درجہ دل میں ظلم کو ظلم سمجھنا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ تمام اختیار رکھتے ہوئے بھی مسلم دنیا کے رہنما اس کمزور ترین درجے پر بھی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کیا؟ مسلمانوں کا خون جن کے ہاتھوں پر لگا ہے ان کے ہاتھ پاک دھرتی پر خود دھلوا رہے اور اپنے ساتھ بٹھا رہے ہیں۔ آج کے اہلِ عرب کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے کے گلے میں عزت کے ہار پہنا رہے ہیں اور اس سے بغلگیر ہو رہے ہیں، اسے عزت و احترام کے ساتھ اپنے پہلو میں بٹھا رہے ہیں۔

سیاست اپنی جگہ لیکن کیا ہم مسلم اُمہ نام کی کسی اصطلاح کو آج کے بعد بھی دوبارہ استعمال کرتے ہوئے کچھ سوچیں گے کہ کیسی اُمہ؟ اُمہ کی مثال تو عمارت کی سی تھی۔ یہ بھلا کیسی عمارت ہے کہ بنیادوں میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے اور دیواریں چین میں ہیں۔ اُمہ کو تو ایک جسم کہا گیا تھا، لیکن یہ جسم کو کیا ہورہا ہے کہ جسم کے ایک حصے کو جو لہولہان کررہا ہے وہ ہماری عزت و تکریم کا حقدار ٹھہر رہا ہے؟ کیا مسلم دنیا کے رہبر ہی رہزن تو نہیں بن بیٹھے؟ کیا جن کے ہاتھوں میں لشکر کی سالاری تھی وہ لشکر کو آگے کرکے بھاگ تو نہیں نکلے؟ 57 ممالک، دنیا کے قیمتی وسائل سے مالا مال، فوجی طاقت ایسی کہ دشمن ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے، افرادی قوت ایسی کہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی، اور حال یہ کہ ایک جانب مسلمان ظلم و ستم سہہ رہے ہیں اور دوسری جانب ظالم انعام و اکرام سے نوازا جارہا ہے؟

یہی مسلم اُمہ ہے جسے علامہ اقبال نیل کے ساحل سے کاشغر تک متحد دیکھنے کی تمنا کیے ہوئے تھے؟ یہی وہ مسلم دنیا کے رہبر ہیں جن کی رہبری میں ہم نے دنیا فتح کرنے کے سپنے دیکھے تھے؟

مفادات، مسلم اُمہ کے افسانوی و مثالی خیال کو پاش پاش کررہے ہیں۔ جی ہاں مفادات مسلم امہ کی حقیقی طاقت کو کمزوری میں بدل رہے ہیں۔ کون ہے مسلم امہ کا رہبر؟ کس نے مسلم دنیا کی سربراہی کرنی ہے؟ انہوں نے جن کو اپنے مفادات عزیز ہیں؟ ایک طرف آئل ریفائنریاں مسلم آُمہ سے زیادہ عزیز ہیں تو دوسری جانب تجارتی حجم اربوں ڈالر تک جانا مسلم امہ کے مفادات سے اہم ہے۔ یارانِ حال کہتے ہیں کہ مفادات ہی تو اہم ہیں۔ وہ بھلا ہمارے مفادات کا تحفظ کیوں کریں، ہمارے حق میں کلمہ حق کیوں بلند کریں؟

عرض اتنی سی ہے کہ ہر طرح کی جذباتی وابستگی سے ہٹ کر ایک لمحہ اپنا محاسبہ کرنا بھی ضروری ہے۔ مقامات مقدسہ کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان، جو اس جانب دیکھے اس کا کلیجہ نکال لیجیے۔ لیکن شاہوں کی وفاداری کا دم نہ بھریئے۔ کچھ اپنے آپ کو بھی تبدیل کرلیجیے۔

ہم کیا کرائے کےلیے دستیاب ہیں کہ جب بھی کڑا وقت آئے ہمیں بلاوا بھیج دیا جائے؟ تلور پالیسی میں ذرا خدارا تھوڑی تبدیلی لے آئیے۔ کیا ہم بس شکار کےلیے کرائے کی گاڑیاں، کرائے کے خیمے، اور خصوصی ایئرپورٹس بنانے کےلیے ہی رہ گئے ہیں؟ کیا ہم نے اُن پر آج تک ثابت کیا کہ ہم مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہیں؟ ہم لینے والا ہاتھ کب تک بنے رہیں گے؟ کیا دنیا کبھی لینے والے ہاتھ کی عزت کرپائی ہے؟

عوام کو بتائیے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کےلیے کیا سختی برداشت کرنی ہے۔ برداشت کریں گے، لیکن یہ ڈرائیوری چھوڑ دیجیے کہ ہم بچھ بچھ جائیں اُن کے آگے اور وہ مسلمان بہن بھائیوں کی نسل کشی کرنے والوں کو میٹھے پکوان کھلائیں۔

دنیا اگر اپنے مفادات اہم رکھ رہی ہے تو ہم کیوں نہ رکھیں؟ ہم کیوں ضرورت سے زیادہ بچھے جائیں۔ کیا پوری دنیا مانگے پر ہی گزارا کرتی ہے۔ نوے دن، چھ ماہ، ایک سال، اب ایک سال سے بھی زیادہ ہوگیا۔ صاحب! اپنے آپ کو سنبھالیے۔ یہاں کوئی کسی کا نہیں، یہ تو آپ نے دیکھ لیا۔ اور ’’پچھلوں نے کیا کر ڈالا‘‘ بحث سے نکلیے۔ کوئی قصور وار ہے تو الٹا لٹکائیے۔ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیجیے۔ جواب دیجیے دنیا کو بھی، دشمن کو بھی۔ اور بیانات سے بڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھیے۔

جن کو ہم جھک کر سلام کرتے ہیں، وہ ہمارے دشمن کو ہمارے سینے پر مونگ دلتے ہوئے ساتھ بٹھارہے ہیں۔ تو ہمیں کس عقل کے اندھے نے یہ صلاح دی ہے کہ ہم اسے نظر انداز کرتے رہیں۔ مفادات ان کو عزیز ہیں تو اپنے مفادات وہاں وابستہ کیجیے جہاں ان کی دال نہیں گلتی۔ ہمسائیوں سے معاملات تھوڑے سنبھالیے۔ جہاں اُن کے پر جلتے ہیں، وہاں آپ قدم رکھ دیجیے۔ عقل اُن کی ٹھکانے خودبخود آجائے گی۔ آپ کب تک جذباتیت کے ساتھ مملکت خداداد کو چلاتے رہیں گے۔ وہ اپنی پالیساں اپنے مطابق چلارہے ہیں تو ہم اپنی پالیسیاں اُن کے مطابق کب تک چلاتے رہیں گے؟ وہ رہبر بننا گوارا نہیں کررہے تو تھوڑا اپنی سوچ کو وسعت دیجیے۔ دنیا بھری پڑی ہے۔ نئے تعلق بنائیے، نیا ساتھ چنیں۔ رہبری کرنے کو ساتھیوں کے ساتھ مل کر مسلم اُمہ کے بے جان گھوڑے میں نئی زندگی ڈالیے۔ خود آگے بڑھیے۔ ہم خیال آگے بڑھائیے۔

پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ عرب کے شیوخ ہوں یا یورپ کے گورے، ہر ایک کو اپنا مفاد عزیز ہے۔ مسلم اُمہ کو اگر اُس کے رہبر اُمہ نہیں بنا پا رہے تو خود رہبری کیجیے۔ رہبری پر کسی ایک کی اجارہ داری تو ہے نہیں۔

شاہد کاظمی

بلاگر کی وابستگی مختلف روزناموں بشمول، روزنامہ جناح، روزنامہ اوصاف سے رہی ۔ آج کل بلاگر ہفت روزہ ہائی کلاس نیوز کے ساتھ بطور ایڈیٹوریل سربراہ منسلک ہیں۔ بلاگر سے ان کے ٹویٹر www.twitter.com/ssakmashadi اور فیس بک پرwww.facebook.com/100lafz رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے