اسلام آباد کے اسپتال پمز میں 24 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے میں ڈینگی کے 150 مشتبہ مریض لائے گئے تھے،ترجمان پمز اسپتال نے کہا کہ اسپتال میں ڈینگی آئیسولیشن وارڈ قایم کر دیا گیا ہے، جس میں 10 بیڈز رکھے گئے ہیں،جبکہ معاون خصوصی برائے صحت کی ہدایت پر ڈینگی کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ظفر مرزا کی ہدایت پر وفاقی سیکریٹری ہیلتھ نے ڈینگی سے متعلق اجلاس منعقد کیا۔

معاون خصوصی صحت نے کہا کہ مریضوں کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ڈینگی کےخاتمےکیلئےمشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،ترجمان وزارت صحت کےمطابق مچھروں کی افزایش کی جگہوں کی نشان دہی کر لی گئی ہے، مچھروں کے خاتمے کے لیے اسپرے جاری ہے، ٹائر، پلاسٹک کی بوتلوں، کوڑا کرکٹ تلف کرنے کا کام بھی جاری ہے،ترجمان نے بتایا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی 136، سینٹری انسپکٹرز، ملیریا سپراوئزر کی 6 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ایک روزقبل ہی ظفرمرزا کی ہدایت پروفاقی سیکریٹری ہیلتھ نےڈینگی سے متعلق اجلاس کی صدارت کی تھی،اس موقع پر ڈاکٹرظفرمرزا نے کہا کہ اسپتالوں میں ڈینگی سےبچاؤ، علاج سے متعلق تیاریاں مکمل رکھیں، ڈینگی کے مریضوں کے علیحدہ وارڈز مختص کئے جائیں،معاون خصوصی صحت نے کہا تھاکہ مریضوں کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ڈینگی کے خاتمے کے لئےمشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈینگی وائرس پھیلنے کی اطلاعات ہین جبکہ بارشوں کے بعد نشیبی علاقوں میں جمع شدہ پانی ڈینگی کے مخصوص مچھروں کی افزائش کی بہترین آماجگاہ ہیں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کے ذریعے پھیلنے والے جان لیوا کانگو وائرس کے بھی مختلف کیہسز سامنے آچکے ہیں تاہم وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے ڈینگی، کانگو اور نگلیریا وائرس کی روکت تھام کیلئے مطلوبہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آرہے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے