صرف کچھ دن قبل ہی وزیراعظم عمران خان کو پی آئی اے کارکردگی کی بریفنگ دی گئی تھی اور سب اچھا ہےکی رپورٹ پر وزیراعظم نےاپنے اطمینان کا اظہار کرتےہوئے پی آئی اے کیلئے نئے طیاروں کےحصول کی منظوری بھی دی تھی لیکن اندرونی صورتحال یہ ہےکہ پائلٹس مستعفی ہورہے ہیں، زمینی عملہ اپنا کام پورا نہیں کررہا اور مسلسل کرایوں میں اضافہ تو ہورا ہے لیکن مسافروں کیلئے سہولیات کم سے کم ہوتی جارہی ہیں۔
پائلٹس کے حوالے سےپاکستان ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے کئی پائلٹس کام کے دباؤ کے باعث مستعفی ہوچکے ہیں،اس حوالے سے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ غیر سازگار ماحول کے باعث پی آئی اے کا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے،رواں سال میں اب تک 8 پائلٹس مستعفی ہوچکے ہیں جبکہ کئی دیگر بھی اس آپشن پر غور کررہے ہیں جس کی وجہ ناقص پالیسیاں اور ائیرلائن کی فلائٹس شیڈول کا غیر منصفانہ ہونا ہے۔
مستعفی ہونے والے پائلٹس کا کہنا تھا کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے انہیں دباؤ میں کام کرنا پڑرہا تھا یا پھر انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے تھے،پالپا کے صدر رضوان گوندل نے پائلٹس کو درپیش مسائل کے حوالے سے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کو خط بھی لکھا تھا جس میں انہیں مسائل سے آگاہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ پی آئی اے نے حال ہی میں فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) میں تبدیلیاں کی تھیں جس کی وجہ سے پائلٹس کو شدید دباؤ میں کام کرنا پڑرہا ہے،انہوں نے لکھا کہ یہ اضافی فلائٹس پالپا اور پی آئی اے میں 2011-2013 میں کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس نئی صورتحال میں پائلٹس کے آرام کیلئے مختص کردہ وقت انہیں نہیں دیا جارہا ہے جب کہ فلائٹس سے پہلے اور فلائٹس کے بعد پائلٹس کیلئے آرام کے دورانیے کی وضاحت ان کے روسٹر میں بھی نہیں کئی گئی ہے۔
رواں سال اپریل میں پی آئی اے کے شعبہ فلائٹ سروسز میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے گئے تھے، فضائی میزبانوں کے بعد کپتانوں کے بھی تبادلے کر تے ہوئےموقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے پروازیں زیادہ ہیں، جس پر کپتانوں کی کمی ہے۔ اصلاحات اور غیر ضروری اخراجات کنٹرول کرنے کے نام پر فلائٹ آپریشن میں کی جانے والی اکھاڑ پچھاڑ کے تحت 85 فضائی میزبانوں کے بعد متعدد کپتانوں کےبھی تبادلےکردیئےگئے تھے ، کراچی سےتعلق رکھنے والے31 سے زائد پائلٹس کا تبادلہ کیا گیا، اس حوالے سے پی آئی اے انتظامیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ کپتانوں کے دوسرے اسٹیشنز پر فلائنگ ڈیوٹی کرنے سے اخراجات زیادہ تھے۔