وزیر ریلوےشیخ رشید نے ٹرینوں کےبڑھتےحادثات اورشیڈول متاثر ہونے پرکہا ہےکہ کچھ افسران و ملازمین ایسے ہیں جن کےمفادات کہیں اورسے وابستہ ہیں انھیں ریلوے کی ترقی ہضم نہیں ہورہی اسلیئے غیر ضروری تاخیر اور سہولیات کی فراہمی پر کچھ غفلت برتی جارہی ہےایسےلوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ از خود اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ آپشن کھلے ہیں کہ ریلوے کی ٹرینوں سمیت دوسرے ڈیپارٹمنٹس کو نجی شعبے کے حوالے کردوں ،ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات مل رہی ہیں لیکن اعتماد رکھتا ہوں کہ سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پرکوئی کم ازکم مسافروں کی جان سےتو نہیں کھیلےگا البتہ کئی معاملات ایسے ہیں جن پروزیراعظم سے بھی بات کروں گا۔
لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئےشیخ رشید کا کہنا تھا کہ کراچی کی غیر متوقع بارشوں نے بھی ریلوے کا نظام متاثر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اس وجہ سے ہم کئی دنوں سے مشکلات کا شکار ہیں، انھوں نے اعلان کیا کہ 6 ستمبر کو بھاولپور ریلوے اسٹیشن کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کیا جائے گا اسی دن سے جناح ایکسپریس کے کرایوں میں 500 روپے کمی کی جارہی ہے، شیخ رشید نے کہا کہ سابق دورکے ڈھائی، تین ہزارکے قریب ملازمین کومستقل کررہے ہیں، 7 ستمبر کو راجن پور اور ڈی جی خان کے ریلوے اسٹیشنز کی مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ اب مسافر ٹرینوں میں نہیں بلکہ مال گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ مسافر ٹرینوں کیلئے مرمت شدہ اور نئی بوگیاں جلد شامل کی جائیں گی۔
سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ آصف زرداری کے چاہنے والے کچھ پیسے دے کر انھیں چھڑانا چاہتے ہیں لیکن حکومتی ڈیمانڈ پوری ہونے تک معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے جبکہ ن لیگ اپنے پاوں پر خود کلہاڑی مار رہی ہے، مرکز میں ن لیگ ٹو بننے جا رہی ہے، ن لیگ ٹو کی قیادت شہباز کرتے ہیں یا چوہدری نثار، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جانتا ہوں کہ وہ کسی قیمت پر این آر او نہیں دیں گے، آصف زرداری کے خیر خواہ کچھ دینے دلانے کے لیے کوشاں ہیں، خود آصف زرداری نہیں، مسلم لیگ ن بھی کچھ دینے پر تیار ہو جائے تو بات بن سکتی ہے۔ انہیں کہہ چکا ہوں یہ تھوڑے بہت پیسے دے دیں لیکن میری بات نہیں سنی گئی، آخری 5 اوور کے میچ اس لیے ہوں کہ شاید تھوڑی دولت نوازشریف کے لوگوں سے بھی مل جائے۔
شیخ رشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کشمیر سے متعلق لانگ مارچ میں میرے ساتھ ہوں گے، فضل الرحمان لاک ڈاؤن کے بجائے کشمیر کشمیر کھیلیں گے، خوشخبری دے رہا ہوں کہ کشمیر پر ساری پارٹیاں ایک ہونے جا رہی ہیں۔
گزشتہ روز مائیک سے کرنٹ لگنے کے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ مجھے کرنٹ لگا، میرے ہاتھ پیلے پڑ گئے، بھارت چاہتا ہیں وہ مر جائیں لیکن بھارتی گھبرائیں نہیں وہ جب تک زندہ نہیں انہیں نہیں چھوڑوں گا، ان کا کہنا تھا کہ لال چوک اور لال حویلی کا سرینگر سے خون کا رشتہ ہے، مودی نے پہلے کشمیر پر حماقت کی ہے، خدانخواستہ بھارت آزاد کشمیر یا لاہور کی طرف بڑھا تو ہم نے اسمارٹ بم رکھےہوئے ہیں، پاکستان پرحملہ آور ہونے والے بھارتی ٹینکوں ،توپ خانوں اور فوجیوں کواسمارٹ بم سے اڑائیں گے، ہمارے پاس ہر سائز کا مسالہ ہے، چھوٹی گولی بھی ہے اور بڑی بھی، بھارت آئے تو سہی ہم تیاری سے ہیں۔