دنیا کےمختلف ممالک کےسربراہان مملکت و حکومتی عہدیداران اتوارکودوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے 80 برس پورے ہونے پرپولینڈ کے دارالحکومت ورسا میں جمع ہوئے،ویلون میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائرنے اس جنگ کے متاثرین سے معافی طلب کی۔ اس موقع پربمباری میں ہلاک ہونے والےتقریباً دو ہزارافراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی تقریب میں جنگ عظیم کی بمباری میں بچ جانے والےافراد بھی شریک تھے۔

تقریب کے کچھ دیر بعد پولش وزیراعظم ماتیئوش موراویئسکی اور یورپی کمیشن کے نائب سربراہ فرنزٹمرزمن نے بحیرہ بالٹک پرجزیرہ نما ویسٹر پلیٹ پرہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی،یہ وہ جگہ ہے جہاں سے پولش دستوں نے اپنی مزاحمت شروع کی تھی، دوسری عالمی جنگ میں یکم ستمبر 1939ءکو نازی جرمنوں نے ویلون پر سب سے پہلے حملہ کیا تھا،اس لڑائی کے دوران پولینڈ کے کچھ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی تھیں اوران میں اس ملک میں آباد 30 لاکھ یہودی شہری بھی شامل تھے۔

جنگ عظیم دوم اور ہٹلر

سترسال قبل 3 ستمبرسن 1939ء کو برطانيہ نےجرمنی کےخلاف اعلان جنگ کيا تھا،اس سے دو روز پہلے يکم ستمبر سن 1939ء کو جرمنی نے پولينڈ پرحملہ کيا تھا، جرمن آمرہٹلرکے لئے پولينڈ پرقبضہ اوراسے تيسری رائش ميں ضم کرنا دنيا بھر پرقبضے کے منصوبے کا اہم حصہ تھا،وہ پہلے ہی رائن لينڈ کو فوجی لحاظ سے دوبارہ تيار کر چکا تھا۔ ہٹلر آسٹريا پر قبضہ کرچکا تھا اور اس نے زوڈيٹن لينڈ کو چيکو سلواکيہ سے بھی چھين ليا تھا۔

اسے توقع نہيں تھی کہ برطانيہ اور فرانس پولينڈ کے سوال پراُسے للکاريں گے،وہ اس سے پہلے بھی ہٹلرکےمقابلے پرآنےميں ناکام رہےتھےتو پھروہ اب کيوں ايسا کرتے۔۔؟؟ اس لئےجب برطانيہ نے3 ستمبر سن 1939ء کو ہتھيار اٹھائے اوراس نے اعلان کيا کہ وہ ايسا اپنےاتحادی پولينڈ سےعہد کی بنياد پر کررہا ہے، تو ہٹلرحيران رہ گيا،اسے يہ يقين تھا کہ جرمنی کو ايک تاريخی مشن انجام دينا تھا، ہٹلر کے اپنا قدم واپس لينے سے انکار نے پوری دنيا کو، بشمول يورپ،مشرقی يورپ،شمالی افريقہ، ايشيا اور بحرالکاہل ميں دوسری عالمی جنگ ميں دھکيل ديا۔

اس کے چھ سال بعد جب سن 1945ء ميں دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو دنيا ہميشہ کے لئے تبديل ہوچکی تھی،ہٹلر مر چکا تھا۔اس نے برلن ميں خودکشی کرلی تھی تاکہ اسے گرفتار ہونے کے بعد کسی بين ا لاقوامی عدالت ميں ان جرائم کی جوابدہی نہ کرنا پڑے جو اس کی حکومت نے انسانيت کے خلاف کئے تھے۔

سن 1933ء ميں برسراقتدارآنےوالی نازی حکومت نےتقريباً 60 لاکھ يورپی يہوديوں اوراپنے شکنجےميں آجانے والے دوسرے بدقسمت انسانوں کو اپنے نسل پرستانہ سياسی نظريات کی بنياد پر موت کے گھاٹ اتار ديا تھا۔ اندازہ ہے کہ دنيا بھر ميں دوسری عالمی جنگ کی زد ميں آکر ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد تقريباً  6 کروڑ تھی۔

جنگ کے بعد جرمنی خاک کا ڈھير بن چکا تھا،اس پر فاتح اتحادی طاقتوں امريکہ،برطانيہ،فرانس اور سوويت يونين کا قبضہ تھا۔ اکثرشہر اتحاديوں کی بمباری سے تباہ ہوچکے تھے،جرمنی کی اقتصاديت تباہ ہوچکی تھی اور اس کا معاشی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔جرمنی کی ايک پوری جوان نسل بری،بحری اور فضائی جنگوں ميں لقمہء اجل بن چکی تھی۔ بين الاقوامی لحاظ سے جرمنی کو ایک ایسا اچھوت سمجھا جانے لگا تھا جس سے کوئی بھی تعلق نہيں رکھنا چاہتا تھا کيونکہ وہ ايک ايسا ملک تھا جس نے خود کو لا تعداد بے گناہ انسانوں کے قاتل فيوہرر آڈولف ہٹلر کے ہاتھوں ميں آلہ کار بننے کی اجازت دی تھی۔

جنگ کے اثرات عالمی نظام يا ورلڈ آرڈر کے لئے بہت گہرے تھے۔ اب جرمنی کميونسٹ اور مغربی دنيا کی تقسيم کی سرحد تھا۔امريکہ ايٹم بم بنانےاور استعمال کرنے والی دنیا کی پہلی بڑی طاقت بن چکا تھا، ليکن جنگ نے سوويت يونين کو بھی فعال کردياتھا،سرد جنگ اور دنيا کی دو بلاکوں ميں تقسيم کا آغاز ہو چکا تھا۔ جلد ہی کميونسٹ اور مغربی بلاک دونوں نے اتنے ايٹم بم تيار کرلئے کہ وہ دنيا کو کئی مرتبہ تباہ کرسکتے تھے۔

اس نئے عالمی نظام نے سلطنت برطانيہ کے خاتمے کی نويد سنائی،برطانيہ يورپ ميں جرمنی اوراٹلی اورمشرق بعيد ميں جاپان کےساتھ جنگ کے باعث کمزور ہوچکا تھا۔اس پرقرضوں کا بھاری بوجھ تھا،اس کے نتيجے ميں اس کے پاس نوآباديات چھوڑنے کے سوا کوئی اور چارہ نہيں تھا، اگلے دو عشروں ميں برطانوی نو آبادیاں مسلسل آزاد ہوتی گئيں اور وہ دولت مشترکہ ميں شامل ہو گئيں۔

جواقوام سن 1939ء سے قبل برطانوی نوآبادياتی دورميں پس رہی تھيں، ان کے لئے دوسری عالمی جنگ کو آزادی کی جدوجہد ميں ايک فيصلہ کن موڑ سمجھا جاسکتا ہے،اس ميں شک نہيں کہ جنگ سے برطانيہ کے وسائل پر ناقابل برداشت بوجھ پڑا اوراس کے پاليسی ساز يہ تسليم کرنے پر مجبور ہوگئےکہ اب برطانيہ کےبجائےامريکہ بالا ترمغربی طاقت ہوگا،تاہم کيا اس وجہ سے کسی بھی طور پر آڈولف ہٹلر کو ايک مثبت اور اچھے انداز ميں ديکھنا بجا ہوگا؟ ہرگزنہيں۔

ہٹلر کے مقاصد ميں سلطنت برطانيہ کو تباہ کرنا شامل تو تھا ليکن صرف برطانيہ کی طرف سے ہٹلر کی مخالفت کے واضح ہو جانے کے بعد سے ہی اس نے اسے بھی اپنا مقصد بنايا تھا۔ اس کے مقاصد ميں برطانيہ کی نو آباديات کو آزادی دلانا شامل نہيں تھا۔ اگر ہٹلر اپنے مذموم اور بدمعاش منصوبے ميں کامياب ہوجاتا تو وہ برطانيہ کی نوآباديات پر قبضہ کرکے انہيں اپنا غلام بنا ليتا۔ اسے ان علاقوں کے لوگوں سے کسی قسم کی ہمدردی نہيں تھی۔ ہٹلر کو ہر اس فرد سے انتہائی نفرت تھی جسے وہ اپنے نسلی برتری کے نظريے کے مطابق خود سے کمتر سمجھتا تھا اور اس لحاظ سے ايشيا کے لوگ اس کے لئے يقيناً قابل نفرت تھے۔

ہٹلر ايک مطلق العنان اور بدمعاش حکمران تھا جس نے جرمنی ميں ايک پوليس رياست قائم کی اور ان افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنايا جنہيں وہ نسلی لحاظ سے خود سے کم تر سمجھتا تھا۔ اس نےجرمنی کے قبضے ميں آجانےوالے علاقوں ميں ان تمام افراد کو مار ڈالا جنہوں نے اُس کی مخالفت کی۔ ستر سال قبل ہٹلر کی جارحانہ جنگ کے آغاز کے بعد اس حقيقت کو کبھی بھی فراموش نہيں کيا جاسکتا۔

آج جرمنی ميں وہ لبرل جمہوريت اپنی جڑيں مضبوط بنا چکی ہے جسے ہٹلر نے تباہ کيا تھا۔ سرد جنگ کے خاتمےکےبعد جرمنی دوبارہ متحد ہوچکا ہےاوراس کے اپنے پڑوسی ملکوں کےساتھ قريبی تعلقات ہيں،جرمنی ميں کامياب جمہوريت نافذ ہےاوراس کےشہريوں کامعيار زندگی اونچا ہےبين ا لاقوامی لحاظ سے جرمنی اسرئيل کا پکا دوست ہے اورتاريک نازی دور کے بعد وہ دوبارہ عالمی برادری کا قابل اعتبار رکن بن چکا ہے۔

جرمنی کا ایک وہ ہٹلر تھا جو معافی تو دور کی بات کسی کے سامنے اپنی آنکھیں نیچی نہیں کرتا تھا اور آج اسی جرمنی کا صدر فرانک والٹر ہے جواس جرم کی معافی مانگ رہا ہے جس میں وہ خود شریک نہیں تھا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتیں جنگ کی تباہی کو پہلے سے کیوں ذہن میں نہیں رکھتیں کہ بعد میں ان کی آنے والی نسلیں تک سرجھکانے اور معافیاں مانگنے پر مجبور رہیں۔۔؟؟آج پاکستان اور بھارت جنگ کے دھانے پر کھڑے ہیں اور یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ تیسری عالمی جنگ کا لازمی رخ اختیار کرے گی تو اس تباہی سے بچنےکیلئے دنیا کے یہی سربراہان جودوسری عالمی جنگ پر آج شرمندہ نظر آتے ہیں اس ممکنہ جنگ کو روک کر کیوں مستقبل کی شرمندگی اور کروڑوں افراد کو ہلاکت سے بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔۔۔؟؟

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے